اگر بیوی نے طلاق کے الفاظ‌ نہیں‌ سنے تو طلاق کا کیا حکم ہے؟


سوال نمبر:4925
السلام علیکم! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور کہتا ہے ’طلاق طلاق طلاق‘ پھر کہے ’میں‌ تمہیں طلاق دیتا ہوں‘۔ بعد میں بیوی کہتی ہے کہ میں‌ نے اس کی یہ باتیں نہیں‌ سنی تو طلاق کا کیا حکم ہے؟ کیا طلاق ایک مرتبہ ہو گئی ہے یا تینوں مرتبہ ہو گئی ہے؟ کیا ان کے پاس رجوع کی گنجائش ہے؟

  • سائل: محمد نوید اکرممقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 30 جون 2018ء

زمرہ: طلاق

جواب:

اگر شوہر نے بقائمِ ہوش و حواس‘ تین طلاق کی نیت سے تین بار ’طلاق طلاق طلاق‘ کہا ہے تو طلاقِ مغلظہ واقع ہوئی ہے۔ ان کا نکاح ختم ہو چکا اور اب رجوع کی گنجائش نہیں ہے۔ بیوی کا طلاق سے مطلع ہونا، طلاق کے الفاظ سننا یا طلاق کی تحریر پڑھنا ضروری نہیں۔ شوہر کے طلاق کے دینے کے بعد طلاق واقع ہو جاتی ہے‘ خواہ بیوی اس سے لاعلم ہی کیوں نہ ہو۔

اگر شوہر نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا اور زرو دینے کے لیے یا تاکیداً طلاق کا لفظ تین بار بولا ہے تو پھر ایک طلاق ہوئی ہے۔ اس صورت میں دورانِ عدت بغیر نکاح کے اور عدت کے بعد تجدیدِ نکاح کے ساتھ رجوع کر سکتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا طلاق ثلاثہ میں نیت کا اعتبار کیا جائے گا؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری