Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - قرضِ حسنہ کی عدم دستیابی پر بینک سے قرض‌ لینے کا کیا حکم ہے؟

قرضِ حسنہ کی عدم دستیابی پر بینک سے قرض‌ لینے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: قرض   |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: شکور عالم       مقام: کمالیہ، پاکستان

سوال نمبر 4922:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے، صورت حال یہ ہے کہ ایک زرعی اراضی جو کہ ہم مزارع کی حیثیت سے تقریباً 30 سال سے کاشت کر رہے ہیں، اصل مالک ہمارے ساتھ اب تک اور ہمیشہ مہربان رہے ہیں۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ وہ زمین ہمیں فروخت کر دیں جن میں سے تقریبا 6 ایکٹر کا وہ بیعانہ مانگ رہے ہیں۔ مگر ہمارے پاس اتنی ذاتی رقم نہیں کہ ہم ایک ایکٹربھی اپنی جمع پونجی سے بیک وقت خرید سکیں۔ ہاں اگر ہمیں کہیں سے قرضہ مل جائے تو ہم اس قرض کو اقساط میں ادا کرنے کی پوزیشن میں ضرور ہیں۔ ان حالات میں آپ سے شریعی رہنمائی درکار ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی خرید کے واسطے قرض حسنہ تو شاید نہ ملےگا۔ تو کیا موجودہ صورت حال میں ہم کسی بھی بینک سے قرضہ جو آسان یا مشکل اقساط پر مشتمل ہوگا حاصل کرسکتے ہیں؟ والسلام

جواب:

ہماری معلومات کے مطابق پاکستان میں ابھی تک کوئی بینک بھی اضافے (Markup) کے بغیر قرض نہیں دے رہا۔ روایتی بینک (Commercial Bank) بغیر کسی لگی پٹی کے اسے سود یا مارک اپ کہہ دیتے ہیں جبکہ دیگر اسے خوشنما ناموں میں سجا لیتے ہیں‘ حقیقت ایک ہی ہے۔ آپ کسی ایسے بینک یا کوآپریشن سے رابطہ کریں جو قرض دینے کی بجائے مطلوبہ زمین خرید کر آپ کو فروخت کرنے پر راضی ہو۔ اگر بینک یا کوآپریشن وہی زمین مثال کے طور پر ایک لاکھ میں خریدتا ہے اور آپ کو ایک لاکھ پچیس ہزار میں فروخت کرتا ہے تو یہ معاملہ جائز ہے۔ اس صورت میں آپ بینک سے قرض نہیں لے رہے ہوں گے بلکہ زمین خرید رہے ہیں۔ فروخت کنندہ (بینک) جس قیمت پر فروخت کرنے کے لیے تیار ہے اور خریدار یعنی آپ اگر اسی قیمت پر خریدنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ ماہوار قسط کی بنیاد پر موجودہ قیمت سے اضافی قیمت دینے میں بھی شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔

سودی قرض اولاً شرعاً ممنوع ہے، ثانیاً سود پر قرض لینا اپنی گردن عذاب میں پھنسانے کے مترادف ہے۔ اس لیے اس سے اجتناب کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-06-30


Your Comments