Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - نمازِ تراویح کی چار رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟

نمازِ تراویح کی چار رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟

موضوع: نمازتراویح

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد اسجد       مقام: اعظم گڑھ، یو۔پی، ہندوستان

سوال نمبر 4901:
اگر کوئی تراویح کی نماز میں دو رکعت پر بیٹھ کر سلام پھیرنا بھول جائے اور چار رکعت تراویح کی نماز ایک ہی سلام سے پڑھ لے تو اسکا کیا حکم ہے؟ کیا چار رکعت تراویح کی نماز ہوگی؟ یا دو رکعت تراویح کی نماز اور دو رکعت نفل ہوگی؟ یا چارو رکعت نفل ہوگی؟

جواب:

اگر دو تراویح کے بعد اطمنان سے بیٹھ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے‘ چاہے تشہد نہ بھی پڑھے تو چوتھی رکعت ساتھ ملالے تو چار تراویح شمار ہوں گی۔ اگر دو تراویح کے بعد بغیر بیٹھے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا تو چوتھی رکعت بھی ساتھ ملائے گا مگر یہ دو تراویح شمار ہوں گی اور دو نفل ہوں گے۔ یاد رہے دونوں صورتوں میں سجدہ سہو لازم ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

اگر امام تراویح میں تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-06-22


Your Comments