Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مسجد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے؟

کیا مسجد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے؟

موضوع: مسجدکےاحکام

سوال پوچھنے والے کا نام: ارتضیٰ احمد       مقام: سرینگر، کشمیر

سوال نمبر 4895:
السلام علیکم! مفتی صاحب ہم نے ایک رہائشی جگہ کو مسجد بنانے کے لیے خریدا، عارضی طور پر اسی عمارت میں پانچ وقت سپیکر میں اذان اور نماز کی ادائیگی شروع کر دی مگر ابھی تک جمعہ شروع نہیں‌ ہوا تھا۔ ابھی ہم انتظامیہ نے مشورہ کیا ہے کہ اس عمارت کو فروخت کر کے کسی دوسری جگہ مسجد بنانا چاہتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

اگر آپ مسجد کو پہلے سے وسیع اور بہتر جگہ پر منتقل کرنا چاہتے تو اس عمارت کو فروخت کر سکتے ہیں۔

فقہ حنفی کے امام حضرت ابن عابدین شامي رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَلِأَهْلِ الْمَحَلَّةِ تَحْوِیلُ بَابِ الْمَسْجِدِ خَانِیَّةٌ وَفِي جَامِعِ الْفَتَاوَی لَهُمْ تَحْوِیلُ الْمَسْجِدِ إلَی مَکَانِ آخَرَ إنْ تَرَکُوهُ بِحَیْثُ لَا یُصَلَّی فِیهِ، وَلَهُمْ بَیْعُ مَسْجِدٍ عَتِیقٍ لَمْ یُعْرَفْ بَانِیهِ وَصَرْفُ ثَمَنِهِ فِي مَسْجِدٍ آخَرَ.

محلے دار مسجد کا دروازہ بدل سکتے ہیں‘ یہی بات فتاویٰ خانیہ میں ہے اور جامع الفتاوی میں بھی ہے کہ اہل محلہ مسجد کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ بدل سکتے ہیں۔ اگر اسے اس حال میں چھوڑ دیں کہ اس میں نماز نہیں پڑھی جاتی۔ ان کو یہ بھی اختیار ہے پرانی مسجد بیچ دیں جس کے بانی کا اتہ پتہ نہیں۔ اور اس کی قیمت دوسری مسجد پر خرچ کر لیں۔

ابن عابدین شامي، رد المحتار، 4: 357، بیروت: دار الفکر للطباعة والنشر

اس سے یہ اصول معلوم ہو گیا کہ بوقتِ ضرورت انتظامیہ مسجد کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کر سکتی ہے۔

امام ابنِ نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

حَوْضٌ أو مَسْجِدٌ خَرِبَ وَتَفَرَّقَ النَّاسَ عَنْهُ فَلِلْقَاضِي أَنْ یَصْرِفَ أَوْقَافَهُ إلَی مَسْجِدٍ آخَرَ وَلَوْ خَرِبَ أَحَدُ الْمَسْجِدَیْنِ فِي قَرْیَةٍ وَاحِدَةٍ فَلِلْقَاضِي صَرْفُ خَشَبِهِ إلَی عِمَارَةِ الْمَسْجِدِ الْآخَرِ.

حوض یا مسجد ویران ہو جائیں اور لوگ اِدھر اُدھر بکھر جائیں تو قاضی (عدالت) کو اجازت ہے اس کے اوقاف (زمین، جاگیر، باغات، دکانیں، مکانات اور رقوم) کسی اور مسجد پر صرف کرے۔ اگر ایک بستی (محلہ) میں، دو مسجدوں میں سے ایک ویران ہو جائے تو قاضی (عدالت) کو اختیار ہے کہ اس کی لکڑی (وغیرہ) دوسری مسجد کی تعمیر میں خرچ کرے۔

  1. زین الدین ابن نجیم، البحر الرائق، 5: 273، بیروت: دار المعرفة
  2. عبد الرحمن بن محمد، مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر، 2: 595، بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیة

امام ابنِ عابدین اور دیگر فقہاء اس سلسلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

لَوْ خَرِبَ الْمَسْجِدُ، وَمَا حَوْلَهُ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ لَا یَعُودُ إلَی مِلْکِ الْوَاقِفِ عِنْدَ أَبِی یُوسُفَ فَیُبَاعُ نَقْضُهُ بِإِذْنِ الْقَاضِي وَیُصْرَفُ ثَمَنُهُ إلَی بَعْضِ الْمَسَاجِدِ.

اگر مسجد ویران ہوگئی اور آس پاس بھی ویران ہو گیا اور لوگ اِدھر اُدھر چلے گئے تو امام ابو یوسف رحمہ اﷲ کے نزدیک وقف کرنے والے کی ملکیت میں دوبارہ نہیں لوٹے گی۔ لہٰذا قاضی کی اجازت سے اس کا ملبہ فروخت کر کے اس کی قیمت کسی اور مسجد پر صرف کی جائے گی۔

  1. ابن عابدین شامي، رد المحتار، 4: 359
  2. مرغیناني، الهدایة شرح البدایة، 3: 20، المکتبة الإسلامیة
  3. ابن الهمام، شرح فتح القدیر، 6: 236، بیروت: دار الفکر
  4. زیلعي، تبیین الحقائق، 3: 330، القاہرۃ: دار الکتب الإسلامي

فقہاء کی اکثریت نے علامہ حلوانی کی اس رائے سے نہ صرف اتفاق کیا ہے بلکہ اسے نقل بھی کیا ہے:

عَنْ شَمْسِ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ خَرِبَ، وَلَا یَحْتَاجُ إلَیْهِ لِتَفَرُّقِ النَّاسِ عَنْهُ هَلْ لِلْقَاضِي أَنْ یَصْرِفَ أَوْقَافَهُ إلَی مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ آخَرَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.

شمس الائمہ الحلوانی سے پوچھا گیا کہ جو مسجد یا حوض ویران ہو گیا اور اس کی ضرورت نہ رہی لوگ اِدھر اُدھر چلے گئے کیا قاضی اس کے اوقاف کسی دوسری مسجد یا حوض پر خرچ کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔

  1. ابن عابدین شامي، رد المحتار، 4: 359
  2. الشیخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندیة، 4: 478، بیروت: دار الفکر

علامہ شامی مزید فرماتے ہیں:

وَلَا سِیَّمَا فِي زَمَانِنَا فَإِنَّ الْمَسْجِدَ أَوْ غَیْرَهُ مِنْ رِبَاطٍ أَوْ حَوْضٍ إذَا لَمْ یُنْقَلْ یَأْخُذُ أَنْقَاضَهُ اللُّصُوصُ وَالْمُتَغَلَّبُونَ کَمَا هُوَ مُشَاهَدٌ وَکَذَلِکَ أَوْقَافُهُ یَأْکُلُهَا النُّظَّارُ أَوْ غَیْرُهُمْ، وَیَلْزَمُ مِنْ عَدَمِ النَّقْلِ خَرَابُ الْمَسْجِدِ الْآخَرِ الْمُحْتَاجِ إلَی النَّقْلِ إلَیْهِ.

خصوصاً ہمارے زمانہ میں کہ مسجد، اصطبل یا حوض جب دوسری جگہ نقل نہ کئے گئے تو چور اور قابض باغی عناصر نے ان کے ملبہ پر قبضہ کر لیا جیسا کہ ہمارے مشاہدہ میں ہے۔ یونہی اوقاف (زمین، جاگیر، باغات، دکانیں، مکانات اور رقوم) کو منتظمین وغیرہ کھا جاتے ہیں۔ اس ملبہ کو دوسری جگہ منتقل نہ کرنے سے دوسری مسجد جس کو اس سامان کی ضرورت ہے، وہ ویران رہتی ہے۔

ابن عابدین شامي، رد المحتار، 4: 360

مقاصد مسجد کی تکمیل ضروری امر ہے:

بِخِلَافِ مَا إذَا کَانَ السِّرْدَابُ أَوْ الْعُلْوُ مَوْقُوفًا لِمَصَالِحِ الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُ یَجُوزُ إذْ لَا مِلْکَ فِیهِ لِأَحَدٍ بَلْ هُوَ مِنْ تَتْمِیمِ مَصَالِحِ الْمَسْجِدِ فَهُوَ کَسِرْدَابِ مَسْجِدِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ.

اگر مسجد کا تہہ خانہ یا اوپر (چھت) مقاصد مسجد کے لئے وقف ہے تو یہ جائز ہے کہ اس میں کسی کی ملکیت نہیں بلکہ اس میں مقاصد مسجد کی تکمیل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مسجد اقصیٰ کے پانی ذخیرہ کرنے کے سرد خانے۔

  1. ابن نجیم، البحر الرائق، 5: 271
  2. ابن عابدین شامي، ردالمحتار، 4: 357

ابن قامہ المقدسی المغنی میں لکھتے ہیں:

وَمَا فَضَلَ مِنْ حُصِرَ الْمَسْجِدِ وَزَیْتِهِ، وَلَمْ یُحْتَجْ إلَیْهِ، جَازَ أَنْ یُجْعَلَ فِي مَسْجِدٍ آخَرَ، أَوْ یُتَصَدَّقَ مِنْ ذَلِکَ عَلَی فُقَرَائِ جِیرَانِهِ وَغَیْرِهِمْ، وَکَذَلِکَ إنْ فَضَلَ مِنْ قَصَبِهِ أَوْ شَيْئٍ مِنْ نَقْضِهِ۔ قَالَ أَحْمَدُ، فِي مَسْجِدٍ بُنِيَ، فَبَقِيَ مِنْ خَشَبِهِ أَوْ قَصَبِهِ أَوْ شَيْئٍ مِنْ نَقْضِهِ، فَقَالَ: یُعَانُ فِي مَسْجِدٍ آخَرَ. أَوْ کَمَا قَالَ. وَقَالَ الْمَرُّوذِیُّ: سَأَلْت أَبَا عَبْدِ اﷲِ عَنْ بَوَارِي الْمَسْجِدِ، إذَا فَضَلَ مِنْهُ الشَّيْئُ، أَوْ الْخَشَبَةُ. قَالَ: یُتَصَدَّقُ بِهِ وَأَرَی أَنَّهُ قَدْ احْتَجَّ بِکُسْوَةِ الْبَیْتِ إذَا تَحَرَّقَتْ تُصُدِّقَ بِهَا. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: قَدْ کَانَ شَیْبَةُ یَتَصَدَّقُ بِخُلْقَانِ الْکَعْبَةِ.

مسجد کی چٹائی اور تیل میں سے جو بچ جائے اور اس کی ضرورت نہ رہے تو اسے دوسری مسجد میں صرف کرنا یا مسجد کے پڑوس میں موجود فقراء پر صدقہ کرنا جائز ہے یہی حکم مسجد کے بانس اور ملبہ کا بھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ سے پوچھا گیا کہ ایک مسجد کی تعمیر کی گئی ہے اس سے کچھ لکڑی اور ملبہ بچ گیا اس کا کیا کیا جائے؟ امام صاحب نے فرمایا کہ اسے دوسری مسجد میں خرچ کر دیا جائے۔ مروذی کہتے ہیں میں نے ابو عبد اﷲ سے مسجد کی فاضل چٹائی اور فاضل لکڑی کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ صدقہ کیا جائے میرا خیال ہے انہوں نے کعبہ کے غلاف سے استدلال کیا کہ جب وہ پرانا ہو جاتا ہے تو اسے صدقہ کر دیا جاتا ہے شیبہ کعبہ کے پرانے غلاف صدقہ کر دیا کرتے تھے۔

موفق الدین أبو محمد عبد ﷲ بن أحمد بن محمد بن قدامة المقدسي، المغني، 5: 370، بیروت: دار الفکر

مذکورہ بالا تصریحات معلوم ہوا کہ مسجد کی عمارت میں ہر ایسا تغیر وتبدل جس سے مقاصد مسجد میں خلل نہ آئے، اُس کو عمل میں لانا جائز ہے۔ ایسے مسائل ضرورت وحالات کے پیش نظر ہوتے ہیں، اصل مقصد دین اسلام کی ترویج واشاعت کے لیے بہترین مواقع پیدا کرنا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2018-07-18


Your Comments