Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - انتہائے وقت میں‌ ادا کی گئی نمازِ عصر کا کیا حکم ہے؟

انتہائے وقت میں‌ ادا کی گئی نمازِ عصر کا کیا حکم ہے؟

موضوع: عصر   |  مکروہ اوقات

سوال پوچھنے والے کا نام: کریم مغل       مقام: لاہور

سوال نمبر 4883:
السلام علیکم! میں‌ نے آپ کی ویب سائٹ پر ایک سوال کا جواب پڑھا جس کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔ آپ نے بتایا کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کا دورانیہ 5 منٹ ہوتا ہے اس میں نماز ادا کرنا جائز نہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں 20 منٹس تک لوگ ادا نہیں‌ کرتے۔ جیسے آج فجر کا وقت 5:05 پے ختم ہوا، لیکن 5:25 تک لوگ نماز ادا نہیں‌ کرتے، اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ میں‌ نے سنا جس نے عصر کی نماز انتہائے وقت پر ادا کی اور دورانِ نماز مغرب کا وقت شروع ہو جائے تو عصر کی نماز ادا ہو جائے گی؟ اسی طرح فجر آخری وقت میں‌ ادا کی تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

سورج کے طلوع و غروب کا دورانیہ تقریباً پانچ (5) منٹ کا ہوتا ہے، لیکن احتیاطاً پندرہ‘ بیس منٹ انتظار کر کے نماز ادا کی جاتی ہے۔ آج کل کے جدید ذرائع معلومات کی موجودگی میں کہ جب سورج کے طلوع و غروب کے درست اوقات کا تعین کرنا مشکل نہیں‘ پانچ منٹ انتظار کر کے نماز ادا کر سکتے ہیں۔

سورج کا رنگ زرد ہونے پر نماز عصر کا ناقص وقت شروع ہو جاتا ہے، اس میں نماز کا فرض تو ادا ہو جاتا ہے مگر نماز کامل نہیں ہوگی۔ ایسی نماز کو لوٹانا بہتر ہوگا۔ نمازِ فجر کے دوران سورج طلوع ہو جائے تو نماز فوراً ٹوٹ جاتی ہے، اس کو ہر حال میں لوٹانا لازم ہوتا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

نمازِ فجر کے دوران طلوعِ آفتاب ہو جانےسے نماز کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-05-28


Your Comments