Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ایک وارث دوسرے وارث سے وراثت کا مال تقسیم کے دن کی قیمت پر خریدے گا؟

کیا ایک وارث دوسرے وارث سے وراثت کا مال تقسیم کے دن کی قیمت پر خریدے گا؟

موضوع: وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عمار       مقام: کراچی

سوال نمبر 4876:
میرے والد صاحب نے 15 سال پہلے اپنی بہنوں سے وراثت كے ایک مکان كے حصے انکی رضامندی سے خرید کر اسکی قیمت ادا کر دی تھی ، لیکن چچا سے حصہ نہیں خریدا اور نا ہی چچا سے اِس بارے میں کوئی بات ہوئی۔ آج چچا کا ہم سے یہ کہنا ہے كے تمھارے والد صاحب نے مجھے بتائے بغیر یہ حصے خریدے ہیں اگر وہ تقسیم کے وقت مجھے بتا دیتے تو میں بھی کچھ حصے خرید لیتا ، لہٰذا جس قیمت پر 15 سال پہلے حصے خریدے گئی تھے آج اسی پرانی قیمت پر مجھے فروخت کرو۔ کیا چچا کا یہ بات کہنا درست ہے؟؟ اگر ہم چچا کو تمام حصے فروخت کرنا چاہیں تو چچا ہمیں ان حصوں کی پرانی قیمت ادا کریں گے یا آج کی کی مارکیٹ ویلیو کی قیمت ادا کریں گے؟؟

جواب:

بہنوں نے اپنا وراثتی حصہ جس بھائی کو فروخت کیا تھا وہ اس کی ملکیت ہے جس نے خریدا تھا۔ کوئی دوسرا بھائی اگر اس میں‌ سے کچھ خریدنے کا خواہشمند ہے تو شرعاً و قانوناً وہ موجودہ قیمت پر خریدنے کا پابند ہے، یا فروخت کنندہ جس قیمت پر بیچنے پر راضی ہو۔ فروخت کنندہ پندرہ (15) سال پہلے کی قیمت پر فروخت کرنے کا شرعاً و قانوناً پابند نہیں‌ ہے۔ اس لیے آپ کے چچا کا یہ مطالبہ درست نہیں‌ کہ آپ اسے سابقہ قیمت پر ہی فروخت کریں‌ گے۔ البتہ اگر آپ کم قیمت پر اسے فروخت کرنا چاہیں‌ تو الگ بات ہے، ورنہ پندرہ سال پہلے کی قیمت پر فروخت کرنے کے پابند نہیں‌ ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-05-28


Your Comments