Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کسی کو قطروں‌ یارطوبت کا وسوسہ ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

کسی کو قطروں‌ یارطوبت کا وسوسہ ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

موضوع: طہارت

سوال پوچھنے والے کا نام: سرفراز احمد       مقام: گجرات

سوال نمبر 4861:
السلام علیکم! استبرا کے بارے میں کتابوں کے اندر کافی معلومات موجود ہیں، لیکن اگر کسی کو استبرا کے بعد تسلی کر لینے کے باوجود قطروں کا احتمال رہتا ہو اور بعض اوقات قطرہ یا رطوبت وغیرہ کا بھی شک ہو تو اس بارے میں شرعی احکامات کیا ہیں؟ میں نے کسی جگہ مذی اور ودی کے پاک ہونے کے بارے میں بھی پڑھا ہے لیکن برائے مہربانی تصدیق فرما دیں۔ سوال کے بعد یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ برائے مہربانی جواب میں کوئی کتاب وغیرہ کا لنک نہ بھیجیئے گا بلکہ اپنے الفاظ سے جواب عطا فرمائیے گا کیونکہ اس حوالے سے کتابوں میں تو کافی کچھ پڑھا ہے لیکن مسئلہ کے اس نقطہ کے حوالے سے تشنگی ہے ازراہ کرم جواب عطا فرما کر رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

اگر کسی شخص کو پیشاب، خون، پیپ، رطوبت یا ریح کا عارضہ لاحق ہو اور یہ نجاستیں اتنے تسلسل سے اس کے ساتھ ملحق ہوتی ہوں کہ اسے ایک نماز کا مکمل وقت نہ مل پائے تو وہ اسی حالت میں وضو کر کے نماز ادا کر سکتا ہے۔ یہ اصول درج ذیل حدیث سے اخذ کیا گیا ہے:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابو حُبیش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:

یَا رَسُولَ اﷲِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ فَقَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم لَا إِنَّمَا ذٰلِکِ عِرْقٌ وَلَیْسَ بِحَیْضٍ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَیْضَتُکِ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْکِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي قَالَ وَقَالَ أَبِي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِکُلِّ صَلَاةٍ حَتَّي یَجِیئَ ذٰلِکَ الْوَقْتُ.

یا رسول اللہ! میں مستحاضہ ہوں، پاک نہیں ہوتی تو کیا نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو خونِ رگ ہے، حیض تو نہیں۔ جب تمہارے حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب گزر جائیں تو غسل کر کے خون دھویا کرو۔ اور نماز پڑھا کرو۔ میرے والد محترم نے فرمایا کہ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو یہاں تک کہ ایام حیض آ جائیں۔

بخاري، الصحیح، کتاب الوضوء، باب غسل الدم، 1: 91، رقم: 226، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة

اس لیے اگر کسی کو تسلسل کے ساتھ قطرے یا رطوبت آتی ہے نماز کی ادائیگی کے لیے نیا وضو کرنے سے پہلے صاف ستھرا زیرجامہ پہن لے، وضو کرے اور نماز ادا کر لے۔ نماز کے دوران بھی قطرے یا رطوبت آتی رہے، نماز ہو جائے گی۔ یہ وضو اگلی نماز کا وقت شروع ہونے تک رہے گا، اس دوران قضاء یا نوافل ادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ اگلی نماز کا وقت شروع ہونے پر زیرجامہ تبدیل کرے اور نیا وضو کر لے۔ البتہ عام حالت میں محض وہم یا شک کی بنیاد پر یہ حکم جاری نہیں ہوگا، جب تک قطرے یا رطوبت خارج ہونے کا یقین نہ ہو جائے یا اس کا نشان ظاہر نہ ہو تب تک وضو برقرار رہے گا۔ محض وسوسوں کی بنیاد پر احکام لاگو نہیں ہوتے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَیْطَانًا یُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ.

وضو کا ایک شیطان ہے جس کا نام ولہان ہے۔ لہٰذا پانی کے وسوسوں سے بچو۔

  1. ترمذي، السنن، کتاب أبواب الطهارة، باب ما جاء فی کراهیة الإسراف فی الوضوء بالماء، 1: 85، رقم: 57، دار احیاء التراث العربي بیروت
  2. ابن ماجه، السنن، کتاب الطهارة وسننها، باب ما جاء فی القصد فی الوضوء وکراهیة التعدی فیه، 1: 146، رقم: 421، دار الفکر بیروت

لہٰذا مسلسل خون، پیشاب، رطوبت یا ریح خارج ہونے والے معذور پر ہر نماز کے لیے استنجاء اور وضو لازم ہے۔

مذی اور ودی دونوں ناپاک ہیں، ان کے خروج سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، البتہ غسل فرض نہیں ہوتا۔ حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَکُنْتُ أَسْتَحْیِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم لِمَکَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ یَغْسِلُ ذَکَرَهُ وَیَتَوَضَّأُ.

مجھے مذی بہت آتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست اس کا حکم معلوم کرنے سے مجھے شرم آتی تھی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، اس لیے میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذی کا حکم معلوم کرو۔ جب حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لو۔

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الغسل، باب غسل المذی والوضوء منه، 1: 105، رقم: 266
  2. مسلم، الصحیح، کتاب الطهارة، باب المذي، 1: 247، رقم: 303، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

اس لیے مذی اور ودی دونوں ناپاک ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-05-11


Your Comments