مرد کن وجوہات کی بناء پر باجماعت نماز چھوڑ سکتا ہے؟

سوال نمبر:485
مرد کن وجوہات کی بناء پر باجماعت نماز چھوڑ سکتا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 27 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل  |  نماز

جواب:

شارع اسلام علیہ السلام نے جہاں بلا جواز ترکِ جماعت پر وعید فرمائی ہے وہاں پر شفقت و رحمت فرماتے ہوئے بامرِ مجبوری ترکِ جماعت کی اجازت بھی دی ہے۔ وہ خاص حالات یا عذر جن کی بناء پر نماز کو باجماعت چھوڑ کر انفرادی طور پر ادا کیا جا سکتا ہے یہ ہیں :

  1. بقدر ستر پوشی کے لباس نہ ہو۔
  2. راستہ میں سخت کیچڑ ہو۔
  3. سخت بارش ہو۔
  4. سخت سردی جس سے کسی بیماری کے پیدا ہونے یا اس کے بڑھ جانے کا خطرہ ہو۔
  5. سخت اندھیرا کہ راستہ دکھائی نہ دے اور نہ روشنی کا سامان ہو۔
  6. مسجد میں جانے سے مال و اسباب کے چوری ہونے کا خطرہ ہو۔
  7. دشمن کے حملہ کا خطرہ ہو۔
  8. کسی بیمار کی تیمار داری میں ہو کہ اگر مسجد چلا گیا تو مریض کی تکلیف بڑھ جائے گی۔
  9. کسی قرض خواہ کے ملنے اور اس سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو بشرطیکہ اس وقت ادا نہ کر سکتا ہو۔
  10. شدت کی بھوک، پیاس لگی ہونا بشرطیکہ کھانا تیار اور موجود ہو۔
  11. گاڑی وغیرہ نکل جانے کا اندیشہ ہو۔
  12. ایسی بیماری کہ جس کی وجہ سے چل پھر نہ سکتا ہو۔

غرضیکہ مندرجہ بالا صورتوں میں کسی عذر یا مجبوری کی بنا پر جماعت کا ترک کرنا جائز ہے جبکہ بلا عذر جماعت چھوڑنے پر وعید ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟