کیا تلاوت و نعت اور وعظ پر معاوضہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:4844
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ کیا دین کے نام پر پیسہ کمانا جائز ہے؟ جیسے ایک محفل نعت میں کسی نعت خواں کو بلایا جائے تو کم از کم 2 لاکھ اس کا ریٹ اور باقی پھینکے یا لٹائے جانے والے پیسے منہ سے مانگتے ہیں- یا پھر وہ ٹی وی پر بیٹھ کر درس دیتے ہیں اور ساتھ ہی ہر شو پر ٹی وی کو چارج کرتے ہیں؟ اس بارے میں دین اور شریعت کے حکم کے بارے میں ہماری رہنمائی کریں۔ شکریہ

  • سائل: محمد عدیل شکورمقام: مریدکے
  • تاریخ اشاعت: 03 مئی 2018ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

تلاوت، نعت اور وعظ و نصیحت کے لیے سودے بازی کرنا قطعی طور پر ممنوع ہے۔ یہ خدمتِ دین نہیں، بلکہ دین کی خرید و فروخت اور کاروبار ہے۔ قراء، نعت خواں اور مقررین حضرات کو آمد و رفت کے اخراجات مہیا کرنا اور صرف کردہ وقت کا معاوضہ دینا محافل کے منتظمین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن تلاوت و نعت اور وعظ و نصیحت کے لیے ہزاروں لاکھوں روپوں کا مطالبہ کرنا، پیشگی رقم وصول کرنا صریحاً ناجائز ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا تقریر، وعظ یا تبلیغ کا معاوضہ لینا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟