کمیشن کی شرط کے ساتھ مخصوص کمپنی کی دوا تجویز کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:4838
السلام علیکم! میں پیشے سے ڈاکٹر ہوں۔ حال ہی میں ایک دوائی کی کمپنی کا نمائندہ میرے پاس آیا اور کہا کہ اگر میں ان کی ادویات کا برانڈ لکھتا ہوں تو کمپنی مجھے فروخت شدہ ادویات کا 30 فیصد حصہ دے گی کیا یہ جائز ہے؟ ادویات کمپنیوں کے نمائندے ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی کی ادویات تجویز کریں اور وہ بدلے میں مختلف آفرز پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ہمارے برانڈ کی دوائی تجویز کرتے ہیں‌ تو ہم آپ کو 30 فیصد کمیشن دیں گے، مثلاً 100 روپے کی دوائی پر 30 روپے آپ کو دیں گے یا 40 فیصد یا 50فیصد کمیشن بھی ملتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح کمیشن لینا شرعاً جائز ہے؟ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی طرح سے ہمیں ایک برانڈ یا دوسرا لکھنا پڑتا ہے، تو کچھ بھی قبول کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ مریض کو دوائی اسی قیمت پر مل رہی رہی ہے، مریض کو اضافی لاگت نہیں آ رہی۔ اسی طرح الٹراساؤنڈ اور خون ٹیسٹ لکھتے ہیں، خون کے ٹیسٹ وغیرہ جیسے مراکز کی کمی ہوتی ہے، لہذا اس طرح کی قریب کی کسی لیب کو ٹیسٹ بھجنا اور اس کے بدلے لیب اپنے منافع میں سے 30، 40 یا 50 فیصد دیتے ہیں، کیا یہ کمشن لینا اور لیب والوں کا دینا جائز ہے؟

  • سائل: محمد آصفمقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 26 ستمبر 2018ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل  |  رشوت

جواب:

اگر ڈاکٹرز یا طبی عملہ کے افراد اس ’شرط‘ پر کسی کمپنی کی ادویات ترجیحاً تجویز کرتے ہیں یا طبی معائنہ کے لیے کسی مخصوص تجزیہ گاہ (Laboratory) کو لازم کر دیتے ہیں کہ اس کے بدلے کسی خاص تناسب سے کمیشن وصول کریں گے تو ایسا کرنا ممنوع ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

أَنْ يَشْتَرِطَ أَنَّهُ إنَّمَا يُهْدِي إلَيْهِ لِيُعِينَهُ عِنْدَ السُّلْطَانِ، وَفِي هَذَا الْوَجْهِ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ الْأَخْذُ.

اگر کسی صاحبِ اختیار کو کسی کام میں مدد کرنے کی شرط کے ساتھ  تحفہ (یا کمیشن) دیا گیا تو اس کا لینا جائز نہیں۔

الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوى الهندية، 3: 331، بيروت: دار الفكر

مشروط ہونے کے بعد یہ کمیشن محض ہدیہ نہیں رہتا بلکہ ایک طرح سے کاروباری معاہدہ بن جاتا ہے جس میں ایک فریق محض اپنے اختیار کی وجہ سے کمیشن لیتا ہے جبکہ اس کا تمام تر مالی بوجھ تیسرا فریق (مریض) اٹھاتا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ’مریض کو دوائی تو اسی قیمت پر ملنی تھی، ڈاکٹر کے کمیشن لینے سے مریض کو اضافی لاگت نہیں آ رہی‘ کیونکہ دواساز کمپنیاں اپنی مصنوعات کے تمام اخراجات خریدار پر ہی ڈالتی ہیں۔ خریدار دوائی کی جو قیمت ادا کرتا ہے اس میں ڈاکٹرز کو دیے جانے والے کمیشنز اور تَشہير کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ دواساز کمپنی و طبی تجزیہ گاہ اور ڈاکٹر کے درمیان ہونے والے کمیشن کے لین دین کا اصل بوجھ مریض کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

اگر ڈاکٹرز محض کمیشن کے لالچ میں غیر معیاری ادویات تجویز کرتا ہے یا غیرضروری طبی معائنہ کرواتا ہے تو اس صورت میں کمیشن لینا اور دینا حرام ہے۔ کیونکہ یہ دوسروں کے مال و جان سے کھلواڑ ہے جو شرعاً و اخلاقاً سخت ممنوع ہے۔

اس کمیشن کے جواز کی صرف ایک ہی صورت ہوسکتی ہے اور وہ ہے کہ دواساز کمپنیوں کے نمائندے اپنی ادویات متعارف کروانے کے لیے ڈاکٹر حضرات سے ملتے ہیں اور بغیر کسی شرط کے‘ محض وقت دینے پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کوئی تحفہ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح مصنوعات (Products) متعارف کروانے کے لیے دیا گیا تحفہ بھی وصول کرنے کی بھی کوئی ممانعت نہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

دواساز کمپنیوں‌ کی طرف سے ڈاکٹرز کو ملنے والے تحائف کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟