کیا بیوی شوہر کو طلاق دے سکتی ہے؟

سوال نمبر:4835
السلام علیکم مفتی صاحب! بیوی اپنے شوہر کو طلاق دے سکتی ہے؟ اگر شوہر کوئی کام بھی نہیں کرتا نہ گھر پر کوئی توجہ دیتا ہے تو عورت کیا کرے؟ بیوی نے عدالت سے طلاق کا نوٹس شوہر کو بھجوایا اور شوہر نے نوٹس وصول کرنے سے ہی انکار کر دیا اب عورت کیا کرے؟ بیوی نے حق مہر واپس کر کے بھی شوہر سے طلاق کا معاملہ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہیں دیتا تو بیوی خلع کیسے لے؟

  • سائل: عبدالصمدمقام: دبئی
  • تاریخ اشاعت: 19 اپریل 2018ء

زمرہ: طلاق

جواب:

اسلام کے عائلی نظام میں‌ نکاح کی گرہ شوہر کے ہاتھ میں‌ ہے۔ اگر شادی کے بعد بیوی کسی بھی وجہ سے شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ شوہر کو طلاق دینے کے لیے راضی کرتی ہے، اس کے لیے اسے کچھ مال دینا پڑے تو یہ معاملہ خلع مبارات کہلاتا ہے۔ اگر خلع کا معاملہ گھر میں طے نہ ہو سکے تو بیوی عدالت میں مصالحت کی درخواست کرتی ہے کیونکہ عدالت ریاست (State) کا نمائندہ ادارہ ہے جو میاں بیوی کو مسئلہ حل کرنے کی مہلت دیتی ہے۔ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں عدالت شوہر کو طلاق دینے کا کہتی ہے اور اس کے لیے بیوی کی طرف سے مال کی بھی پیش کش کرتی ہے۔ اگر شوہر مال قبول کر کے طلاق دے دے تو یہ علیحدگی خلع کہلاتی ہے۔ اگر شوہر بذریعہ خلع طلاق دینے کے لیے بھی راضی نہ ہو، بیوی کے حقوق پورے نہ کرے (جیسا کہ آپ کے سوال میں ہے) اور طلاق بھی نہ دے تو اس صورت میں عدالت ان کا نکاح منسوخ (Cancel) کر دیتی ہے، یہ معاملہ تنسیخِ نکاح کہلاتا ہے۔ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان بیوی کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، حضرت ثابت کی بیوی کو ان سے کوئی شکایت نہیں تھی، لیکن وہ انہیں پسند نہیں کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی علیحدگی کروا دی۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:

أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ ﷲِ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَیْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِینٍ وَلَکِنِّي أَکْرَهُ الْکُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ ﷲِ أَتَرُدِّینَ عَلَیْهِ حَدِیقَتَهُ. قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ ﷲِ أقْبَلْ الْحَدِیقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِیقَةً.

ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کی یارسول اللہ! میں ثابت بن قیس کے دین یا اخلاق پر کوئی اعتراض نہیں کرتی نہ عیب لگاتی ہوں، لیکن مجھے اسلام میں رہ کر کفران نعمت پسند نہیں (یعنی خاوند پسند نہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے جو باغ تم نے حق مہر میں لیا ہے وہ اسے واپس کردوگی؟ وہ بولیں جی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت ثابت سے) فرمایا: اپنا باغ قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2021، رقم: 4971، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. نسائي، السنن الکبری، 3: 369، رقم: 5657، بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیة

اور یکطرفہ تنسیخ کی مثال اس حدیث مبارکہ سے ملتی ہے کہ حضرت خنساء بنتِ خِذام اَنصاریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ:

إِنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَیِّبٌ فَکَرِهَتْ ذَلِکَ. فَأَتَتِ النَّبِيَّ فَرَدَّ نِکَاحَهَا.

ان کے والد ماجد نے ان کی کہیں شادی کر دی جبکہ وہ بیوہ تھیں، مگر اُنہیں یہ شادی ناپسند تھی۔ سو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کا نکاح منسوخ فرما دیا۔

  1. بخاري، الصحیح، 6: 2547، رقم: 6546
  2. أبي داود، السنن، 2: 233، رقم: 2101، دار الفکر

اس لیے جب بیوی نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا اور عدالت نے شوہر کو طلب کیا تو شوہر کا فرض ہے کہ عدات میں پیش ہو۔ اگر بار بار طلب کرنے پر بھی شوہر پیش نہیں ہوتا تو عدالت یکطرفہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ مگر اپنے سوال میں آپ نے وضاحت نہیں کہ شوہر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں؟ اگر عدالت نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے نکاح منسوخ کر دیا ہے تو نکاح ختم ہو چکا ہے، عورت عدت مکمل کر کے نیا نکاح کر سکتی ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: اگر عورت کے مطالبہ پر شوہر طلاق نہ دے تو طلاق کا کیا حکم ہے؟

اگر شوہر کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر بیوی نے اپنا مقدمہ واپس لے ليا، نہ عدالت نے کوئی فیصلہ کیا، نہ خلع ہوا اور نہ تنسیخِ نکاح ہوا‘ تو ان کا نکاح قائم ہے۔ بیوی ابھی تک اسی نکاح میں ہے‘ وہ نئی شادی نہیں کر سکتی۔ نئے نکاح کے لیے بیوی عدالت سے تنسیخِ نکاح کروائے، عدت مکمل کرے‘ اس کے بعد جہاں چاہے شادی کر لے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟