Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مورث کی زندگی میں‌ فوت ہونے والی بیوی ترکہ میں‌ حصہ دار ہے؟

مورث کی زندگی میں‌ فوت ہونے والی بیوی ترکہ میں‌ حصہ دار ہے؟

موضوع: وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: ثاقب شیراز       مقام: دوحا، قطر

سوال نمبر 4805:
السلام علیکم! میرے والد صاحب کی دو شادیاں تھیں؛ پہلی بیوی کا انتقال ہوگیا اور اس میں سے ایک بھائی ہے۔ میری والدہ حیات ہیں اور والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ وراثتی تقسیم میں میرے بھائی کو اسکی والدہ کا حصہ بھی ملے گا جو میرے والد صاحب کی حیات میں ہی وفات پا گئی تھیں؟ اور کیا اس صورت میں پہلی بیوی کا کوئی حصہ بنتا ہے جو میرے بھائی کو ملنا چاہئیے؟ یا جائیداد کی تقسیم بھائیوں میں برابر ہوگی؟

جواب:

کسی شخص کی وفات کے وقت جو رشتہ دار موجود ہوں وہی اس کے ترکہ کے وارث بنتے ہیں۔ پہلے فوت ہو جانے والا/ والی بعد میں فوت ہونے والے کا وارث نہیں بن سکتا۔ اس کے والدِ مرحوم کی جو زوجہ ان زندگی میں ہی فوت ہو گئی تھی وہ آپ کے والد کے ترکہ میں حصہ دار نہیں ہے۔ ان کی جو زوجہ وصال کے وقت موجود تھی اسے کل قابلِ تقسیم ترکہ سے آٹھواں حصہ (1/8) ملے گا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

 پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد۔

النساء، 4: 12

اس کے بعد اگر آپ دو ہی بھائی ہیں تو باقی سارا مال آپ دونوں میں برابر تقسیم ہو جائے گا۔ آپ کے والد کی زندگی میں فوت ہونے والی بیوی کا ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-04-16


Your Comments