چندہ مسجد سے امام و مؤذن کی رہائش تعمیر کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:4795
السلام علیکم و رحمتہﷲ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مسجد کی جمع شدہ رقم سے مسجد سے متصل ہی موجود امام و مؤذن کے حجروں کی تعمیرات و مرمت کا کام کروایا جاسکتا ہے؟

  • سائل: محمد دانش خان قادریمقام: حیدرآباد پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 31 مارچ 2018ء

زمرہ: مسجد کے احکام و آداب

جواب:

مسجد کے لیے جمع کیا جانے والا چندہ مسجد کی تعمیر اور اس کی آبادکاری کے جملہ امور پر خرچ کرنا جائز ہے۔ امام و مؤذن کی رہائش بھی انہی امور میں‌ سے ہے اس لیے مسجد کے چندے سے امام و مؤذن کے حجروں کی تعمیر و مرمت بلا کراہت جائز ہے۔ علامہ ابن نجیم فرماتے ہیں:

لَوْ بَنَی بَیْتًا لِسُکْنَی الْإِمَامِ فإِنَّهُ لَا یَضُرُّ فِي کَوْنِهِ مَسْجِداً لِأَنَّهُ مِنَ الْمَصَالِحِ.

اگر امام کی رہائش کے لیے گھر بنایا تو مسجد کی تعمیر میں کوئی خرابی نہیں ہے کیونکہ یہ مصالح (مسجد) میں سے ہے۔

ابن نجیم، البحر الرائق، 5: 271، بیروت: دار المعرفة

اس لیے بوقتِ ضرورت امام و مؤذن کی رہاش گاہ کی تعمیر و مرمت جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟