کیا عقیق یا دیگر نگینوں کا رزق کی کشادگی سے کوئی تعلق ہے؟

سوال نمبر:4781

السلام علیکم مفتی صاحب! بخاری و مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حبشی نگینہ انگوٹھی میں استعمال کیا ہے۔ بندہ نے عقیق پتھر کے بارے میں شرح صیحیح مسلم جلد 6 از علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ‌ اللہ علیہ انگوٹھی کے باب میں پڑھا ہے کہ عقیق کی انگوٹھی پہننا مبارک ہے۔ عقیق کی انگوٹھی فقر کو دور کرتی ہے اور پیلے یاقوت کی انگوٹھی طاعون سے محفوظ رکھتی ہے۔ مشکوۃ المصابیح جلد 6 میں مفتی احمد یار نعیمی صاحب نے بھی لکھا ہے کہ عقیق کی انگوٹھی فقر کو دور کرتی ہے اور پیلے یاقوت کی انگوٹھی طاعون سے محفوظ رکھتی ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ یہ احادیث بہت سی اسناد سے مروی ہے لہٰذا قوی ہے۔ بندہ نے مجمع الزواید میں عقیق کے بارے حدیث کو پڑھی ہے۔

وعن فاطمة عن رسول الله ﷺ قال: من تختم بالعقيق لم يزل يرى خيرا.

رواه الطبراني في الأوسط وعمرو بن الشريد لم يسمع من فاطمة وزهير بن عباد الرؤاسي وثقه أبو حاتم وبقية رجاله رجال الصحيح۔حدیث نمبر8744 باب للباس۔

بندہ نے ایک رسالہ آسان رزق جس کا نا م ہے۔اس میں صفحہ نمبر12 پر حدیث درج کی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ عقیق کی انگوٹھی پہننے سے رزق میں بر کت ہوتی ہے۔ اسی رسالہ میں صفحہ نمبر 14 پر حدیث درج کی ہے کوئی اپنے ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی پہنے رہے چور اور دوسری آفتوں سے سفر میں عافیت ہوگی۔ ان احادیث مبارکہ کا حوالہ درج نہیں کیا گیاہے۔ بندہ جاننا چاہتا ہے کہ ان احادیث مبارکہ پر عمل کرنا کیسا ہے؟ اوران احادیث مبارکہ کو پڑھنے کے بعد بندہ کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ رب العزت نے کائنات میں کسی بھی چیز کو بے مقصد پیدا نہیں کیا اور قرآن پاک میں لؤلؤ، مرجان اور یا قوت کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کی کوئی حکمت تو ضرور ہے جو اللہ رب العزت نے ان پتھروں کا ذکر کیا ہے۔ احادیث مبارکہ پڑھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ نے ا س عقیق پتھر میں یہ خاصیت پیدا کر رکھی ہے۔ اس کو بعینہ اس طرح سمجھتا ہے کہ جیسے علاج کرانا سنت ہے لیکن شفا کا ہوجانا دوائی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے حکم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عقیق کے معاملے میں بندہ یہی سمجھتا ہے کہ عقیق فقیری دور کرنےمیں ایک روحانی طور پر سبب ہو سکتا ہے لیکن غنی کرنا اللہ کے آختیار میں ہے۔ بندہ کا یہ خیال درست ہے؟ راہنمائی فرمایں۔
اللہ رب العزت اجر عظیم عطا فرمائے۔

  • سائل: ڈاکٹر مظہر وارثمقام: ملتان
  • تاریخ اشاعت: 25 جنوری 2019ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

جن روایات میں رزق کو عقیق، یاقوت، نیلم یا دیگر پتھروں کے ساتھ جوڑا گیا ہے ایسی تمام روایات من گھڑت یا انتہائی ضعیف درجے کی ہیں۔

علامہ غلام رسول سعیدی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انہیں بےاصل قرار دیا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان کا کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان روایات کو حوالہ کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ جو روایت امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کی ہے اس کے بارے میں بھی محدثین اور آئمہ فنِ حدیث نے جو اعتراضات کیے ہیں درج ذیل ہیں:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: نا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ: نا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَخَتَّمَ بِالْعَقِيقِ لَمْ يَزَلْ يَرَى خَيْرًا.

امام طبرانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کر کے خود ہی اس پر اعترض بھی وارد کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ.

طبراني، المعجم الأوسط، 1: 39، رقم: 103، القاهرة: دار الحرمين

مزید فرماتے ہیں:

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَعَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ فَاطِمَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّؤَاسِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

هيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 5: 154، رقم: 8744، القاهرة: مكتبة القدسي

ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو نقل کر کے اس کی سند پر جرح کی ہےکہ یہ مالک کی حدیث نہیں ہے:

رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ.وَأَبُو بَكْرٍ هَذَا يَرْوِي عَنْ مَالِكٍ مَا لَيْسَ مِنْ حَدِيثِهِ.

المقدسي، تذكرة الحفاظ، 1: 314، 315، رقم: 789، الرياض: دار الصميعي للنشر والتوزيع

اسی طرح ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت پر شدید اعتراضات وارد کئے ہیں:

هذا كذب انتهى ذكره بن حبان في الضعفاء وأورد له الحديث عن محمد بن جعفر البغدادي عن احمد بن يحيى بن خالد بن حيان عن زهير بن عباد عنه وقال أبو بكر هذا يروي عن مالك ما ليس من حديثه لا يحل الاحتجاج به وأخرجه الطبراني في الأوسط عن احمد بن يحيى هذا وقال لم يروه عن مالك الا أبو بكر تفرد به زهير

عسقلاني، لسان الميزان، 7: 16، رقم: 132، بيروت: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات

امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے:

فمالك بري من هذا.

اور دوسرے مقام پر بیان کیا:

هذا كذب.

ذهبي، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، 7: 337، رقم: 10022، 7: 341، رقم: 10027، بيروت: دار الكتب العلمية

یہ بات بالکل بجا ہے کہ دنیا کی کوئی شے بلامقصد پیدا نہیں کی گئی اور ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔ ان پتھروں کا مقصد زیب و زینت کا حصول ہے۔ رزق کی کمی و پیشی کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟