کیا نکاح سے پہلے دی ہوئی طلاق واقع ہوتی ہے؟

سوال نمبر:4767
السلام علیکم! میں نے ایک لڑکی سے پیار کیا ہے پھر میں ایک جگہ پڑھنے کیلئے چلا گیا، تین سال تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ پھر ایک دن میں اس کو فون کیا اس نے فون اٹھایا میں نے کہا میں سلمان ہوں اس نے غصہ میں فون کاٹ دیا۔ دوبارہ کیا پھر بھی کاٹ دیا۔ میرے ساتھ میرا دوست بھی تھا اور میرے دوست نے میرے ساتھ بہت استھزاء کیا۔ مجھے بہت غصہ آیا، میں نے کہا ’میں اس سے شادی نہیں کرونگا اور اگر تقدیر میں لکھا ہے شادی کرنا پھر بھی تین طلاق ہو‘۔ لیکن یہ اس کو پتہ نہیں تھا‘ بعد میں بات چیت ہوئی۔ ابھی تک بات چیت ہوتی ہے۔ کیا یہ طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ کیا میں اس کے ساتھ شادی کرسکتا ہوں؟ براہ مہربانی آپ جلدی جواب دیں۔

  • سائل: سلمان شاممقام: میرہات، بنگلہ دیش
  • تاریخ اشاعت: 26 مارچ 2018ء

زمرہ: طلاق

جواب:

اگر واقعی آپ کے الفاظ یہ تھے کہ ’اگر تقدیر میں لکھا ہے شادی کرنا پھر بھی تین طلاق ہو‘ تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ آپ نے طلاق کو مستقبل میں کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ ’تین طلاق ہو‘۔ ابھی نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کیونکر ہو سکتی ہے؟ آئندہ ایسے جملوں سے اجتناب کریں۔ آپ مذکورہ خاتون سے شادی کر سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟