اسلام میں‌ سورج گرہن اور چاند گرہن کی کیا حقیقت ہے؟

سوال نمبر:4698
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین چاند وسورج گہن کے متعلق؟ زید کا کہنا ہے کہ جب چاند گردش کے دوران زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے تو سورج گہن ہوتا ہے جبکہ زمین گردش کے دوران چاند کے سامنے آجاتی ہے تو چاند گہن ہوتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں چاند وسورج گہن کی کیا حقیقت ہے؟ اور ایسا بیان کرنے والوں کا کیا حکم ہے؟ بینوا وتوجروا

  • سائل: فیروز احمدمقام: انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 28 فروری 2018ء

زمرہ: نماز خسوف(چاند گرہن)  |  نماز کسوف (سورج گرہن)

جواب:

کائناتِ ہست و بود میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر ناقابلِ شمار ہیں۔ اَجرامِ سماوِی اور ان مجموعہ ہائے نجوم کی ریل پیل کائنات کے حسن کو دوبالا کرتے ہوئے اُسے ایک خاص انداز میں متوازن رکھے ہوئے ہے۔ یہی توازن اِس کائنات کا حقیقی حسن ہے، جس کے باعث مادّہ (matter) اور ضدِمادّہ (antimatter) پر مشتمل کروڑوں اربوں کہکشاؤں کے مجموعے (clusters) بغیر کسی حادثہ کے کائنات کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں۔ ہماری کہکشاں ملکی وے (Milky Way) دراصل ایک چکردار کہکشاں ہے۔ اُس کے چار بازو ہیں جن میں واقع کروڑوں ستارے کہکشاں کے مرکز کے گرد گردِش کر رہے ہیں۔ سورج بھی اپنے ساتھی ستاروں کی طرح کہکشاں کے مرکز سے 30,000 نوری سال کے فاصلے پر ’’اورِین آرم‘‘ (Orion Arm) میں واقع ہے اور کہکشاں کے مرکز کے گرد 22,00,00,000 سال میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔ سورج کی اِس گردِش کو اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید میں یوں بیان کیا ہے، فرمایا:

وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِO

اور سورج اپنے لئے مقرر کردہ راستے پر چلتا ہے، یہ (راستہ) غالب علم والے (اللہ) کا مقرر کردہ ہے۔

يٰسين، 36 : 38

اَحوالِ قیامت کے ضمن میں سورج کے بُجھ کر بے نور ہو جانے اور اس کی حرکت رک جانے کے بارے میں اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید میں فرمایا:

إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْO

جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گا۔

التکوير، 81: 1

سورج کی طرح چاند بھی اپنے متعین راستے پر مصروفِ سفر ہے۔ اِس سلسلے میں اِرشادِ ایزدی ہے:

الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍO

سورج اور چاند معلوم اور مقررّہ (فلکیاتی) حسابات کے مطابق (محوِ حرکت) ہیں۔

الرحمن، 55: 5

چاند کی روشنی سورج کا مرہونِ منت ہے۔ جس طرح زمین سورج کی دُھوپ سے تمازت پاتی اور روشن ہوتی ہے اُسی طرح چاند بھی سورج ہی کی دُھوپ سے منوّر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علم و عرفان سے عاری دَور کے متداول نظریات کے خلاف قرآنِ مجید میں سورج کے لئے ’’روشنی دینے والا‘‘ اور چاند کے لئے ’’روشن کیا جانے والا‘‘ کے الفاظ فرمائے۔ سورۂ یونس میں فرمایا:

هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا.

وُہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اُس سے) روشن (کیا)۔

يونس، 10: 5

ارشاد ہے:

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ.

ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اُن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب (آپ کی حقانیت کی تصدیق کے لئے) کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی) ہے۔

حٰم السَّجْدَة، 41: 53

جن نشانیوں کے اظہار کا اللہ تعالیٰ عندیہ دیا ہے سورج گرہن اور چاند گرہن بھی انہی میں سے ہیں۔ عربوں میں مشہور تھا کہ سوچ گرہن اور چاند گرہن تب لگتا ہے جب زمین پر کوئی بہت بڑا ظلم ہو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہم قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اﷲِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوہَا فَصَلُّوا.

سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔

  1. بخاري، الصحیح، 1: 353، رقم: 995، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. مسلم، الصحیح، 2: 630، رقم: 914، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اﷲِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا.

سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب ایسا دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔

بخاري، الصحیح، 1: 359، رقم: 1008

اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرہن کے وقت خود بھی نماز ادا فرمائی جیسا کہ درج ذیل ہے:

عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم فَزِعًا یَخْشَی أَنْ تَکُونَ السَّاعَةُ فَأَتَی الْمَسْجِدَ فَصَلَّی بِأَطْوَلِ قِیَامٍ وَرُکُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَیْتُهُ قَطُّ یَفْعَلُہُ وَقَالَ هَذِہِ الْآیَاتُ الَّتِي یُرْسِلُ اﷲُ لَا تَکُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنْ {یُخَوِّفُ اﷲُ بِهِ عِبَادَهُ} فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ فَافْزَعُوا إِلَی ذِکْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ.

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورج کو گرہن لگا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی کیفیت طاری ہوئی جیسے قیامت آ گئی ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور نماز پڑھی، بہت ہی لمبے قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ۔ میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اور فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ جب تم ایسی کوئی بات دیکھو تو اللہ کے ذکر، دعا اور استغفار کی طرف دوڑا کرو۔

  1. بخاري، الصحیح، 1: 360، رقم: 1010
  2. مسلم، الصحیح، 2: 628، رقم: 912

زمین پر سورج گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند گردش کے دوران سورج اور زمین کے درمیان میں آجاتا ہے، جس کے بعد زمین سے سورج کا کچھ یا پھر پورا حصہ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح زمین کا وہ سایہ جو گردش کے دوران کرہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آ جانے سے چاند کی سطح پر پڑتا ہے اور چاند تاریک نظر آنے لگتا ہے‘ اس کیفیت کو چاند گرہن کہتے ہیں۔ قدیم مذاہب میں سورج گرہن اور چاند گرہن کے متعلق عجیب و غریب قصے مشہور تھے‘ جبکہ قرآنِ مجید نے اسے اللہ کی نشانی قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ کسوف و خسوف ادا کر کے بتا دیا کہ اس کیفیت میں سورج و چاند کی حرکت معمول سے ہٹ کر ہے جو اللہ کی نشانی ہے اور قیامت کا منظر ہے۔ اس سے پناہ مانگنے کے لیے خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤ۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟