Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بیمہ صرف غیرمسلموں کی شراکت کے ساتھ جائز ہے؟

کیا بیمہ صرف غیرمسلموں کی شراکت کے ساتھ جائز ہے؟

موضوع: بیمہ و انشورنس

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد انور قادری کاملی       مقام: ممبئی، ہندوستان

سوال نمبر 4695:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! عالی جناب مفتی صاحب ہم آپ سے چند جدید زمانے کے مطلق سوالات کے تفصیل سے جوابات چاہتے ہیں۔ دور حاضر میں آج زمانہ اتنی ترقی کر چکا ہے، اور زمانے کے ساتھ کاروبار بهی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، مغربی دنیا کے غیر مسلموں سے متاثر ہوکر اب مسلمانوں نے بھی اپنی زندگی کا بیمہ، (انشورنس) دکان و مکان کا بیمہ، صحت کا بیمہ، گاڑی کا بیمہ، بچوں کی پڑهائی اور شادی کے لئے بیمہ اور مختلف اشیاء کے انشورنس (بیمہ) کرانے کو اپنی ضرورت سمجھنا شروع کردیا ہے۔ انشورنس (بیمہ) کے جواز یا عدم جواز یا اضطراری حالت میں اسکی بعض شکلوں کے جواز کے متعلق قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ بعض علماء اس کو سود، جوا، دھوکہ اور اسلام کے قانونِ وراثت سے متصادم قرار دیتے ہیں اور بعض اس کو اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان صاحب کے فتاوے کی روشنی میں جائز قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے جواز کی یہ شرط بتاتے ہے کہ بیمہ کمپنی میں شراکت کرنے والے صرف ہندوں، یہود، عیسائی یا کوئی اور غیر مذہب کا ماننے والا ہو، اس کمپنی میں اگر کوئی کلمہ گو مسلمان ہو تو اس کمپنی کا انشورنس لینا جائز نہیں ہے.؟ یہ بات کس حد تک جائز ہے؟ ہندوستان میں گورنمنٹ کی نجی کمپنی یا دوسری کسی بڑی مسلم یا غیر مسلم کمپنی میں جس کا مالک مسلمان، ہندو، عیسائی، یہودی یا کسی بھی غیر مذہب کا ہوتو اس کمپنی میں کسی بھی قسم کا انشورنس (بیمہ) کرانا جائز ہے جب کہ اُس کمپنی میں غیر مسلم کے ساتھ مسلمان حضرات بھی اپنا قیمتی پیسا خرچ کرتے ہیں ؟ آپ سے امید ہے کہ آپ ہمیں تفصیلی جواب عنایت فرمائینگے، اگر اس طرح کا بیمہ کرانا جائز ہے تو عوام اہل سنت کے غیور مسلمان اس انشورنس کمپنی سے فائدہ حاصل کریں اور اگر اس طرح کا بیمہ کرانا جائز نہیں تو ہم اس کمپنی سے اجتناب کریں۔ جزاک اللہ خیرا۔ والسلام!

جواب:

ہمارے نزدیک پاک و ہند میں بیمہ (insurance) لینا مفید ہے۔ یہ بچت کا ایک حیلہ اور حادثاتی صورتحال کی پیش بندی کا طریقہ ہے۔ بیمہ کے معاہدے میں براہ راست  سود اور جوے کا معاملہ نہیں ہوتا، بیمہ ہولڈر کمپنی سے مضاربہ کی بنیاد پر معاہدہ کرتا ہے اس لیے اسے سود، قمار اور جوا قرار دینا درست نہیں۔ جب کوئی معاملہ اسلامی اصولوں کے ساتھ طے پائے اور اس میں کوئی غیرشرعی بات شامل نہ ہو تو معاملہ خواہ مسلمان کے ساتھ کیا جائے یا غیرمسلم کے ساتھ‘ جائز ہے۔ اس لیے جس کمپنی میں مضاربہ کی بنیاد پر انشورنس کی جا رہی ہے اس کی پالیسی خریدنا جائز ہے خواہ اس کا مالک مسلمان ہو یا غیرمسلم۔ انشورنس کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

انشورنش کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

انشورنس اور سود میں کیا فرق ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-02-23


Your Comments