Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا غیرمسلم معاشرے میں‌ تنقید سے بچنے کے لیے غیرمحسوس طریقے سے نماز ادا کی جاسکتی ہے؟

کیا غیرمسلم معاشرے میں‌ تنقید سے بچنے کے لیے غیرمحسوس طریقے سے نماز ادا کی جاسکتی ہے؟

موضوع: نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: سرور خاں       مقام: میلان، اٹلی

سوال نمبر 4686:
السلام علیکم علامہ صاحب! برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں: کسی غیرمسلم ملک جہاں پہ زیادہ تر لوگ نماز کے عمل سے ناوافق ہوں یا اسے ناپسند کرتے ہوں تو ایسے معاشرہ میں ناجائز تنقید اور غیرضروری بحث سے بچنے کیلئے درج ذیل طریقوں سے نماز پڑھی جا سکتی: (1) دورانِ سفر گاڑی میں بغیر سجدہ و رکوع (یعنی اشاروں سے، جیسا کہ کرسی پہ بیٹھا شخص پڑھتا ہے)۔ (2) کام پہ کھڑے ہو نے کی بجائے زمین پر بیٹھ کر یا کام کے دوران جائے نماز کی بجائے کرسی پر بیٹھ کر؟ جزاک اللہ خیراََ.

جواب:

ہر مذہب کے لوگ اپنے طریقے کے مطابق عبادات بجالاتے ہیں۔ مسلمانوں کا طریقہ عبادت جداگانہ ہے جس پر تنقید و بحث کے ڈر سے گھبرانا نہیں‌ چاہیے۔ دورانِ سفر گاڑی میں‌ نماز ادا کرتے ہوئے سجدہ و رکوع ممکن نہ ہوں تو اشاروں سے سجدہ اور رکوع کرنا جائز ہے۔

بلاوجہ بیٹھ کر نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔ بامر مجبوری کرسی پر یا نیچے بیٹھ کر نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-02-02


Your Comments