Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ایک مرد اور ایک عورت گواہ کی موجودگی میں‌ نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟

کیا ایک مرد اور ایک عورت گواہ کی موجودگی میں‌ نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟

موضوع: نکاح   |  شرائط نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: فاران قریشی       مقام: لاہور

سوال نمبر 4661:
السلام علیکم یہ سوال میرے ایک دوست کے متعلق ہے۔ وہ لاہور میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ میرے دوست کا نام زید ہے۔ کچھ دن پہلے زید کو اس کے ایک دوست نے یونیورسٹی کی کینٹین میں بلایا۔ جب زید وہاں پہنچا تو وہاں دو لڑکیاں اور ایک زید کا دوست براجمان تھے۔ دوست نے کہا کہ آج تم میرا اور میری اس دوست کا نکاح پڑھاؤ۔ اب وہاں اس مجلس میں دلہا دلہن اور زید [جو کہ نکاح پڑھا رہا ہے] اور دلہن کی ایک سہیلی موجود ہیں۔ یعنی دولہا دولہن کے علاوہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی موجود ہیں۔ زید نے نکاح پڑھانا شروع کیا اور دلہن سے پوچھا کہ مہر کتنا لو گی؟؟جوابا اس نے کہا کہ میں سات روپے مہر لوں گی۔ اب اس نے دولہن سے دو مرتبہ پوچھا کہ کیا تمہیں اس کے ساتھ نکاح قبول ہے؟ لڑکی نے دو مرتبہ قبول کیا اور تیسری مرتبہ کہا مجھے قبول نہیں ہے۔ اس کے بعد دولہا نے سات روپے ادا بھی کیے۔ یاد رہے یہ سارا کام ازراہ مذاق ہوا۔ اب جواب یہ طلب کرنا ہے کہ کیا اس طرح نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟

جواب:

ایجاب اور قبول‘ عقدِ نکاح کے بنیادی ارکان ہیں، مگر صرف ایجاب و قبول سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ صحتِ نکاح کے لیے ایجاب و قبول‘ حق مہر کے عوض دو عاقل، بالغ مسلمان مرد گواہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے۔ آپ کے سوال میں مذکورِ مجلسِ نکاح میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی گواہ کے طور پر موجود ہے، گواہوں کی شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔ اس انداز میں شرعی حدود کا مذاق اڑانا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ خاص طور پر نکاح و طلاق کا معاملہ بہت حساس ہے۔  حدیثِ مبارکہ میں آقا علیہ الصلاۃ و السلام کا ارشاد ہے:

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُولَ اﷲِ قَالَ ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّکَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَةُ.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ ارادہ کے ساتھ کی جائیں یا مذاق میں کی جائیں (دونوں صورتوں میں) واقع ہو جاتی ہیں: نکاح، طلاق اور رجوع‘‘

  1. ابي داود، السنن، 2: 259، رقم: 2194، دار الفکر
  2. ترمذي، السنن، 3: 490، رقم: 1184، دار احياء التراث العربي بيروت

اس لیے آئندہ ایسے مذاق سے باز رہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-01-26


Your Comments