مردوں کے لیے ننگے سر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:466
مردوں کے لیے ننگے سر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 27 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  نماز

جواب:

نماز کی حالت میں ستر عورت فرض ہے۔ مرد کا ستر ناف سے لے کے گھٹنوں تک ہے اور عورت کا ستر تمام جسم ہے، صرف چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کا کھلا ہونا مستثنیٰ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے توفیق اور وسعت دی ہو تو بہتر ہے ٹوپی یا عمامہ پہن کر نماز پڑھے جیسا کہ امام بخاری، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :

إِذَا وَسَّعَ اﷲُ فَاوْسِعُوْا.

بخاری، الصحيح، کتاب الصلاة فی الثياب، باب الصلاة فی القميص و السر اويل والتبان والقباء، 1 : 143، رقم : 358

’’جب اللہ تعالیٰ وسعت دے تو وسعت اختیار کرو۔‘‘

امام شعرانی لکھتے ہیں :

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں عمامہ یا ٹوپی کے ساتھ سر ڈھانپنے کا حکم دیتے تھے اور ننگے سر نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔‘‘

شعرانی، کشف الغمة، 1 : 87

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، صحابہ، تابعین اور سلف صالحین کا طریقہ عمامہ یا ٹوپی سے سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا تھا۔ اس لیے جب انسان کے لیے عمامہ یا ٹوپی حاصل کرنے کی وسعت ہو تو وہ ننگے سر نماز نہ پڑھے۔ عمامہ باندھ کر یا ٹوپی پہن کر نماز پڑھے۔

نووی، شرح صحيح مسلم، 1 : 1335، 1336

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟