Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ناک کی رطوبت سے لباس ناپاک ہو جاتا ہے؟

کیا ناک کی رطوبت سے لباس ناپاک ہو جاتا ہے؟

موضوع: وضوء

سوال پوچھنے والے کا نام: عمران       مقام: گجرات

سوال نمبر 4654:
ناک کی گندگی یا پانی کپڑوں پر لگ جائے تو کیا حکم ہے اور وضو کے لئے ناک میں پانی ڈالنا ہی کافی ہے یا اچھی طرح صفائی ضروری ہے

جواب:

ناک کی رطوبت یا ناک صاف کرتے ہوئے پانی کپڑوں پر لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے۔ تاہم نفاست کا تقاضا ہے کہ لباس پے جہاں ناک کی رطوبت لگی ہو اس جگہ کو دھو لیا جائے۔ وضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈالنا اور حسبِ ضرورت ناک کی صفائی کرنا سنت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَلْیَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِیَنْثُرْ.

جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اسے چاہیے کہ ناک میں بھی پانی ڈالے، پھر اسے صاف کرے۔

بخاري، الصحیح، 1: 72، رقم: 160، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة

اور حضرت عاصم بن لقیط سے مروی حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وضو کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَیْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَکُونَ صَائِمًا.

کامل وضو کیا کرو، انگلیوں کا خلال کرو اور اگر روزہ نہ ہو تو ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو۔

  1. أبي داود، السنن، 1: 35، رقم: 142، دار الفکر
  2. ترمذي، السنن، 3: 155، رقم: 788، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

لہٰذا ناک میں پانی ڈال کر اس کی صفائی کرنا وضو کا حصہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-01-16


Your Comments