Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حالتِ احرام میں سر ڈھانپنے پر دم لازم ہے؟

کیا حالتِ احرام میں سر ڈھانپنے پر دم لازم ہے؟

موضوع: عمرہ   |  احرام

سوال پوچھنے والے کا نام: نصیر احمد       مقام: پاکستان

سوال نمبر 4652:
ایک شخص نے میقات سے عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اسی جگہ نماز کا وقت ہو گیا تو اس نے سر کا کچھ حصہ ڈھک کر نماز پڑھی کیا شرعی حکم ہے؟

جواب:

حالتِ احرام میں مردوں کے لیے سر ڈھانپنا جائز نہیں ہے جس کی دلیل درج ذیل حدیثِ مبارکہ سے ملتی ہے:

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ  أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اﷲِ! مَا یَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّیَابِ؟ قَالَ رَسُولُ اﷲِ: لَا یَلْبَسُ الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِیلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا یَجِدُ نَعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسْ خُفَّیْنِ وَلْیَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّیَابِ شَیْئًا مَسَّہُ الزَّعْفَرَانُ أَوْ وَرْسٌ.

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! احرام والا کیسے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قمیض، عمامہ، شلوار، ٹوپی اور موزے نہ پہنے۔ ہاں اگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے لیکن انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے اور وہ کپڑے نہ پہنو جن میں زعفران یا ورس لگی ہوئی ہو۔

  1. بخاري، الصحیح، 2: 559، رقم: 1468، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. مسلم، الصحیح، 2: 834، رقم: 1177، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 63، رقم: 5308، مصر: مؤسسة قرطبة

فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ مرد بھول کر یا دانستہ سر ڈھانپ لے تو اس پر دم لازم ہے۔ اگر کامل دن سے کم ڈھانپے تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ وہ شخص صدقہ فطر کی مقدار برابر صدقہ دے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-01-16


Your Comments