کیا جھوٹے طلاق نامے سے طلاق واقع ہوتی ہے؟

سوال نمبر:4638
اسلام علیکم علماہ کرام کیا فرماتے ییں اس بارے میں کے میری اپنے شوہر سےلڑائی ہوئی اور میں اپنے میکے آگئی تب اس کے بہد میرے شوہر مجھے لینے آئے اور میں ان کے ساتھ نہ گئی کافی بحث کے بعد ان کو غصہ آگیا اور انہوں نے غصے میں آ کر ایک بار کہا کے میں نے تمہیں طلاق دی اور وہ چلے گے اس کے بعد ایک مہینے بعد انہوں نے طلاق کے پیپر بھیج دیے جس پر تین بار درج تھا کے میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اس کے بعد کچھ عرصہ بعد وہ مجھے پھر لینے آ گے ہم نے کہا کے تم نے تو مجھے طلاق دے دی ہے تب انہوں نے کہا کے میں نے تو ایک ہی زبانی طلاق دی تھی اور قسم کھاتا ہے کے اس نے صرف ایک ہی زبانی طلاق دی ہے اس کے علاوہ کوئی طلاق نہیں دی پیپر پر جھوٹ لکھوایا ہے کے میں نے تین زبانی طلاق دے دی تھی۔ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

  • سائل: انممقام: اوکاڑہ
  • تاریخ اشاعت: 22 جنوری 2018ء

زمرہ: طلاق

جواب:

شوہر نے جو طلاق کے پیپر بھجوائے ہیں اگر ان میں پہلے دی جانے والی زبانی طلاق کے بارے میں لکھا ہے کہ میں‌ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی تو پھر ایک ہی طلاق واقع ہوئی ہے، کیونکہ وہ پہلے سے دی ہوئی طلاق کے بارے میں بتا رہا ہے‘ نئی طلاق نہیں‌ دے رہا۔ اس صورت میں دورانِ عدت بغیر نکاح‌ کے اور عدت کے بعد نئے نکاح‌ کے ساتھ رجوع ممکن ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر اس نے مزید طلاق دینے کے لیے پیپر بھجوائے ہیں تو پھر پہلی زبانی کے علاوہ یہ تحریری طلاقیں بھی واقع ہو چکی ہیں‌ اور اب ان کا رجوع ممکن نہیں‌ ہے‘ چاہے اس نے ڈرانے کے لیے تین طلاق کا لکھا تھا یا جان بوجھ کر جھوٹ بولا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ‌ کی حدود کا مذاق اڑانا کسی طور جائز نہیں۔

طلاق خواہ سنجیدگی میں دی جائے یا مذاق میں، جھوٹی ہو یا سچی، فرضی ہو یا حقیقی، طلاق واقع ہو جائے گی۔ حدیثِ مبارکہ میں آقا علیہ الصلاۃ و السلام کا ارشاد ہے:

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُولَ اﷲِ قَالَ ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ النِّکَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَةُ

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ ارادہ کے ساتھ کی جائیں یا مذاق میں کی جائیں (دونوں صورتوں میں) صحیح مراد ہیں: نکاح، طلاق اور رجوع‘‘

  1. ابي داود، السنن، 2: 259، رقم: 2194، دار الفکر
  2. ترمذي، السنن، 3: 490، رقم: 1184، دار احياء التراث العربي بيروت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی روشنی میں اگر مذکورہ شخص نے بقائمِ ہوش و حواس خود کہہ کر تین طلاق لکھوائیں یا خود لکھیں تو تینوں واقع ہو گئیں ہیں‘ خواہ دھمکی کے طور پر لکھی گئی تھیں یا جھوٹا طلاق نامہ لکھوایا گیا تھا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟