کیا والدہ کی عدت کے دوران بیٹی کی شادی کی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر:4619
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زید کا نکاح ایک سال قبل ہندہ کے ساتھ ہوا لیکن باہمی رضامندی سے ہندہ کی رخصتی کا وقت ایک سال رکھا گیا۔ اب جب رخصتی کا وقت قریب آیا تو ہندہ کے والد کا وصال ہوگیا تو کیا اس صورت میں اب رخصتی کی جاسکتی ہے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جو تاریخ ہندہ کے والد نے رکھی تھی اسی تاریخ میں رخصتی ہو بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی رخصتی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ہندہ کی ماں ابھی عدت میں ہیں اور ساز و سامان طعام وغیرہ کا انتظام رشتے داروں کو مدعو کرنے کا کام کون کرے گا؟ جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام انتظامی امور ہندہ کی ماں محارم مردوں و عورتوں اور اپنے بڑے بیٹے کے ذریعے کرواسکتی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید اور ہندہ کے رخصتی کرنا ٹھیک ہوگا یا عدت گزرنے کا انتظار کیا جائے یا اسی تاریخ میں ہی رخصتی ہو جو ہندہ کے والد مرحوم نے متعین کی تھی؟ تینوں صورتیں آپ کے سامنے ہی جواب عطا فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

  • سائل: محمد عظیممقام: مصطفیٰ آباد، اتر پردیش، ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 11 جنوری 2018ء

زمرہ: معاشرت

جواب:

بہتر تو یہی ہے کہ لڑکی کی رخصتی سادگی کے ساتھ کر دی جائے تاکہ اس کے والدِ مرحوم کے ذمے جو فرض تھا وہ بروقت ادا ہو جائے۔ تاہم اگر گھریلو یا خاندانی مسائل درپیش ہیں تو طے شدہ تاریخ میں کمی پیشی کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں کوئی شرعی پابندی نہیں ہے۔ حالات اور ضرورت کے مطابق فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟