مونچھیں تراشنے کے کیا احکام ہیں؟


سوال نمبر:4611
مونچھ کاٹنے اور تراشنے کی بجائے بغل کے پشم کی مانند اکھاڑ ڈالنا کیسا ہے؟ دلیل سے آراستہ کرنے کی گزارش ہے۔

  • سائل: افتخار الحق خیرمقام: فینی، بنگلہ دیش
  • تاریخ اشاعت: 09 جنوری 2018ء

زمرہ: داڑھی کی شرعی حیثیت

جواب:

قرآن وحدیث میں مونچھیں منڈوانے یا جڑ سے اکھاڑنے کی ممانعت نہیں ہے مگر سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مونچھیں پست کرنا ہی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اپنی مونچھیں ترشواتے تھے کبھی منڈوائی یا جڑ سے اکھاڑی نہیں ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ خَالِفُوا الْمُشْرِکِینَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رضی اللہ عنهما إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْیَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔

بخاري، الصحیح، 5: 2209، رقم: 5553، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة

اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:

انْهَکُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَی.

مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2209، رقم: 5554
  2. مسلم، الصحیح، 1: 222، رقم: 259، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَی خَالِفُوا الْمَجُوسَ.

آتش پرستوں کی مخالفت کرو، مونچھیں ترشواؤ اور داڑھی بڑھاؤ۔

  1. مسلم، الصحیح، 1: 222، رقم: 260
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 365، رقم: 8764، مصر: مؤسسة قرطبة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے کہ:

کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُصُّ أَوْ یَأْخُذُ مِنْ شَارِبِهِ وَکَانَ إِبْرَاهِیمُ خَلِیلُ الرَّحْمٰنِ یَفْعَلُهُ.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھیں مبارک کتروایا کرتے تھے اوؤر اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم e بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

  1. ترمذي، السنن، 5: 93، رقم: 2760، بیروت: دار احیاء التراث العربي
  2. طبراني، المعجم الکبیر، 11: 277، رقم: 11725، الموصل: مکتبة الزہراء

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ لَمْ یَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ فَلَیْسَ مِنَّا.

جو اپنی مونچھوں کا کچھ حصہ (جو ہونٹ سے زائد ہو) نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں۔

  1. ترمذي، السنن، 5: 93، رقم: 2761
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 365، رقم: 8764
  3. نسائي، السنن، 1: 66، رقم: 14، بیروت: دار الکتب العلمیة

مذکورہ بالا احادیث کے بارے میں شارحین حدیث کی وضاحتیں ذیل میں دی گئی ہیں۔ علامہ بدر الدین ابو محمد محمودبن العینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:

مونچھیں کاٹنا سنت ہے قص الشارب کا لفظ قصصت الشعر سے ماخوذ ہے میں نے بال کٹوائے طیر مقصوص الجناح (جس پرندے کے پر کٹے ہوں)۔ اہل مدینہ میں سے بہت سے بزرگوں کے نزدیک مونچھیں منڈوانے سے کٹوانا بہتر ہے۔ مثلاً سالم، سعید بن مسیب، عروہ بن الزبیر، جعفر بن الزبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، ابوبکر بن عبد الرحمن بن الحارث، ان سب کے نزدیک مونچھیں کاٹنا مستحب ہے مونڈھنے کی نسبت یہی قول ہے۔ حمید بن ہلال، حسن بصری، محمد بن سیرین، عطاء بن ابی رباح اورامام مالک کا بھی یہی مذہب ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اﷲ نے فرمایا کثیر تعداد میں سلف نے مونچھیں مونڈھنے سے منع فرمایا ہے یہی امام مالک کا مذہب ہے ان کے نزدیک یہ مثلہ ہے۔ امام مالک مونچھیں مونڈھنے والے کو سزا کا حکم دیتے تھے اور ہونٹ سے اوپر بال کاٹنے کو مکروہ سمجھتے تھے مستحب یہ ہے کہ اوپر سے اتنی مونچھیں کاٹی جائیں جس سے ہونٹ نظر آئیں۔ اہل کوفہ، مکحول، محمد بن عجلان، نافع مولیٰ ابن عمر، ابو حنیفہ، ابو یوسف ا ور امام محمد رحمھم اﷲ نے فرمایا مونچھیں کاٹنے سے افضل مونڈھنا ہے۔ ابن عمر، ابو سعید خدری، رافع بن خدیج، سلمہ بن الاکوع، جابر بن عبد اللہ، ابو اسید، عبد اللہ بن عمر کے نزدیک کاٹنے سے مونڈھنا افضل ہے۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ خارجیوں کی علامت مونڈھنا ہے (سر کے بال ہوں یا مونچھوں کے)۔

عیني، عمدة القاري، 22: 44، بیروت: دار حیاء التراث العربي

علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:

المراد به هنا قطع الشعر النابت علی الشفة العلیا من غیر استئصال.

اس سے مراد اوپر والے ہونٹ پر اگنے والے بال کاٹنا ہے، مونڈھنا مراد نہیں۔

عسقلاني، فتح الباري، 10: 335، بیروت: دار المعرفة

امام نووی فرماتے ہیں:

أما حد مایقصه فالمختار أنه یقص حتی یبد و طرف الشفة ولا یحفه من أصله وأما روایات احفوا الشوارب فمعنا ھا احفوا ماطال علی الشفتین.

مونچھیں کاٹنے کی مذہب مختار میں حد یہ ہے کہ ہونٹ ظاہر ہو جائیں، کلی طور پر مونڈھنا نہیں اور جن روایات میں احفوا الشوارب مونچھیں کاٹو، اس کا مطلب ہے وہ بال کاٹو جو ہونٹوں پر لمبے لمبے موجود ہیں۔

النووي، شرح صحیح مسلم، 3: 149، بیروت: دار احیاء التراث العربي

امام نووی مزید لکھتے ہیں:

فذهب کثیر من السلف إلی استئصاله وحلقه بظاهر قوله صلی الله علیه وآله وسلم احفوا وانهکوا وهو قول الکوفیین و ذهب کثیر منهم إلی منع الحلق والاستئصال وقاله مالک وکان یری حلقه مثلة ویأمر بأدب فاعله وکان یکره أن یؤخذ من أعلاه ویذهب هؤلاء إلی أن الإحفاء والجز والقص بمعنی واحد، وهو الأخذ منه حتی یبد و طرف الشفة وذهب بعض العلماء إلی التخییر بین الأمرین والمختار ترک اللحیة علی حالها وأن لا یتعرض لها بتقصیرشئی أصلاً والمختار في الشارب ترک الاستئصال والا قتصار علی مایبدو به طرف الشفة.

’’بہت سے بزرگ اس طرف گئے ہیں کہ مونچھیں مونڈھی جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ظاہر قول سے استدلال کرتے ہوئے کہ مونچھیں کٹاؤ اور یہی قول ہے اہل کوفہ کا اور بہت سے علماء مونچھیں نہ کاٹنے اور نہ مونڈھنے کی طرف گئے ہیں اور یہی قول ہے امام مالک رحمہ اﷲ کا، وہ مونچھیں مونڈھنے کو مثلہ قرار دیتے تھے اور مونڈھنے والے کو سزا کا حکم دیتے اور اوپر سے مونچھیں مونڈھنے کاٹنے کو مکروہ سمجھتے تھے ان کے نزدیک اِحفاء، جَزّ اور قصّ کا ایک ہی مطلب ہے کہ مونچھیں اتنی کاٹی جائیں جس سے ہونٹ ظاہر ہو جائیں بعض علماء کے نزدیک بندے کو دونوں میں اختیار ہے۔‘‘

النووي، شرح صحیح مسلم، 3: 151

مونچھیں تراش کر پست کرنا سنت ہے، مونڈھنا یا جڑ سے اکھاڑنا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے اور نہ اس کی ممانعت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری