خلوتِ صحیحہ سے پہلے دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:4601
السلام علیکم! نکاح‌ کے بعد رخصتی نہیں‌ ہوئی تھی اور نہ خلوت صحیحہ واقع ہوئی تھی کہ لڑکے نے لڑکی سے کہا ’تم آزاد ہو‘، پھر کہا ’میں‌ نے تمہیں‌ چھوڑ دیا‘ کچھ دیر کے بعد کہا ’اگر تم ایسا کیا تو تم آزاد ہو‘۔ براہِ‌ مہربانی بتائیں کہ ان جملوں‌ سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اگر وہ دوبارہ نکاح کرتے ہیں‌ تو کیا وہ شرط جو لڑکے نے لگائی تھی دوبارہ مؤثر ہو جائے گی؟

  • سائل: زین علیمقام: دبئی
  • تاریخ اشاعت: 02 جنوری 2018ء

زمرہ: طلاق

جواب:

لڑکے کے الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اور نکاح ختم ہوچکا ہے۔ شرط مؤثر ہونے کا دار و مدار شرط کے الفاظ پر ہے اس لیے جس طرح کی شرط عائد کی گئی ہے اسی طرح مؤثر ہوگی۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا نکاح سے پہلے مشروط کی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟