فرائض‌ کی تیسری یا چوتھی رکعات میں سورہ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورت پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:4593
السلام علیکم! اگر چار رکعات والی سری نماز میں‌ دوسری رکعت میں‌ سورہ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلا جائے تو کیا سجدہ سہو کرے گا؟ اگر فرائض‌ کی تیسری یا چوتھی رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت بھی پڑھ لیتا ہے تو کیا حکم ہے؟ اگر قعدہ اخیرہ میں سلام پھیرنے کی بجائے کھڑا ہو جائے تو کیا سجدہ سہو کرے گا؟

  • سائل: نبیل فرازمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 01 جنوری 2018ء

زمرہ: نماز

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. فرائض کی پہلی دو رکعات اور وتر، سنن و نوافل کی تمام رکعات میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی چھوٹی سورہ یا اس کے برابر بڑی آیت ملانا واجب ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ.

پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو۔

الْمُزَّمِّل، 73: 20

احادیثِ مبارکہ میں بھی سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

أَمَرَنَا نَبِیُّنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَمَا تَیَسَّرَ.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سورہ فاتحہ کے ساتھ جو قرآن کریم سے میسر آئے پڑھا کریں۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 45، رقم: 11433، مصر: مؤسسة قرطبة
  2. أبي داود، السنن، 1: 216، رقم: 818، دار الفکر

سورۃ ملانے کا یہ حکم فرائض کی صرف پہلی دو رکعات کے لیے ہے جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن ابو قتادہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد نے فرمایا:

کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَیْنِ الْأُولَیَیْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَتَیْنِ یُطَوِّلُ فِي الْأُولَی وَیُقَصِّرُ فِي الثَّانِیَةِ وَیُسْمِعُ الْآیَةَ أَحْیَانًا وَکَانَ یَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَتَیْنِ وَکَانَ یُطَوِّلُ فِي الْأُولَی وَکَانَ یُطَوِّلُ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَیُقَصِّرُ فِي الثَّانِیَةِ.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد دو سورتیں پڑھتے۔ پہلی میں طویل قرأت کرتے اور دوسری میں مختصر رکھتے اور کسی آیت کو قصداً سنا بھی دیتے اور نماز عصر میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے اور پہلی رکعت میں قرأت طویل فرماتے اور نماز فجر کی پہلی رکعت میں بھی قرأت فرماتے اور دوسری میں مختصر پڑھتے۔

  1. بخاري، الصحیح، 1: 264، رقم: 724، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. مسلم، الصحیح، 1: 333، رقم: 451، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

اور عبدالرحمان الجزیری لکھتے ہیں:

ضم سورة إلی الفاتحة في جمیع رکعات النفل والوتر والأولیین من الفرض ویکفي في أداء الواجب أقصر سورة أو ما یماثلها کثلاث آیات قصار أو آیة طویلة والآیات القصار الثلاث.

نفل اور وتر کی ہر (رکعت میں) اور فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورۃ کا پڑھنا (واجب ہے)۔ چھوٹی سے چھوٹی سورہ یا اس کے برابر قرآنِ مجید کی آیتیں جیسے تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھ لینے سے واجب ادا ہو جاتا ہے۔

عبدالرحمان الجزیری، الفقه علی مذاهب الأربعة،25۹: 1، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

اس لیے فرائض کی پہلی دو رکعات، سنن و نوافل اور وتر کی تمام رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورت ملانا بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہے۔ اگر کوئی جان بوجھ کر سورہ نہ ملائے تو نماز لوٹانا واجب ہے۔

  1. احناف کے نزدیک فرائض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت ہے، سورت نہیں ملائی جاتی جبکہ اس کی ممانعت بھی نہیں ہے۔ اس لیے فرائض کی تیسری اور چوتھی رکعات میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورت ملانے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔
  2. اگر قعدہ اخیرہ میں سلام پھیرنے سے پہلے نمازی بھول کر کھڑا ہو جائے تو سجدہ سہو کرنا ضروری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟