غلط نکاح پڑھانے والے امام کی اقتداء نماز ادا کرنا جائز ہے؟


سوال نمبر:4587
السلام علیکم! اگر کوئی امام غلط نکاح پڑھا دے یعنی جس لڑکی کا پہلے کسی سے نکاح ہو چکا لیکن امام صاحب نے اس وہم وگمان میں کہ پہلا نکاح عدالت کے خارج کرنے سے ٹوٹ گیا تھا اس لئے اس نے نکاح پڑھا دیا تو کیا اس امام کے پیچھے نماز مکروہ ہوگی۔ جواب مرحمت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیر ا

  • سائل: ابو حسان قاسمیمقام: انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 02 جنوری 2018ء

زمرہ: امامت

جواب:

آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ جائیں کہ مزید ساتھ رہنے میں کسی بڑے نقصان کا اندیشہ ہو یا زوجین میں سے کسی کے حقوق مسلسل پامال ہو رہے ہوں تو مذہب و عقل ان کو علیحدگی کا حکم دیتے ہیں۔ نکاح کی گرہ لگنے سے ایک نیا خاندان وجود میں آتا ہے جس کے دونوں فریقوں کی ذمہ داریاں اسلام نے واضح کر دی ہیں۔ شوہر کو اس کی جسمانی و نفسیاتی ساخت کی وجہ سے گھر کا سربراہ بنایا ہے اور خاندان کی معاشی کفالت کی ذمہ داری بھی شوہر کے کندھوں پر ہے۔ نکاح کی گرہ بھی شوہر کے ہاتھ میں دی ہے اور اس گرہ کو کھولنے (طلاق) کا حق بھی اسی کے پاس ہے۔ لیکن اگر شوہر بیوی کے حقوق بھی ادا نہ کرے اور اسے طلاق دینے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو بیوی حقِ خلع استعمال کرتے ہوئے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی۔ اگر خلع بھی نہ تو بیوی بذریعہ عدالت فسخِ نکاح کروا سکتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ.

طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے، پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

البقرہ، 2: 229

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کی: یارسول اللہ! میں ثابت بن قیس کے دین یا اخلاق پر کوئی اعتراض نہیں کرتی نہ عیب لگاتی ہوں لیکن مجھے اسلام میں رہ کر کفران نعمت پسند نہیں (یعنی خاوند پسند نہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 أَتَرُدِّینَ عَلَیْهِ حَدِیقَتَهُ. قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أقْبَلْ الْحَدِیقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِیقَةً.

اس سے جو باغ تم نے حق مہر میں لیا ہے وہ اسے واپس کردوگی؟ بولیں جی حضور، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا باغ قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2021، رقم: 4971، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. نسائي، السنن الکبری، 3: 369، رقم: 5657، بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیة

اور ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت خنساء بنتِ خِذام اَنصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

إِنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَیِّبٌ فَکَرِهَتْ ذَلِکَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم فَرَدَّ نِکَاحَهَا.

ان کے والد ماجد نے ان کی شادی کر دی ہے جبکہ وہ بیوہ تھیں، مگر اُنہیں یہ شادی ناپسند تھی۔ سو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کا نکاح منسوخ فرما دیا۔

  1. بخاري، الصحیح، 6: 2547، رقم: 6546
  2. أبي داود، السنن، 2: 233، رقم: 2101، دار الفکر
  3. دارمي، السنن، 2: 187، رقم: 2192، بیروت: دار الکتاب العربي

یعنی جب بطور میاں بیوی رہنا ممکن نہ ہو تو مجاز اتھارٹی نکاح منسوخ کر سکتی ہے۔ فقہائے کرام نے بھی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ بذریعہ عدالت نکاح ختم کیا جا سکتا ہے۔ عظیم محقق کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف ابن ہمام فرماتے ہیں:

فَإِذَا امْتَنَعَ کَانَ ظَالِمًا فَنَابَ الْقَاضِی عَنْهُ فِیهِ فَیُضَافُ فِعْلُهُ إلَیْهِ.

جب خاوند طلاق نہ دے تو ظالم ہے لہٰذا قاضی اس مسئلہ میں خود خاوند کا قائم مقام ہو کر تفریق کر دے اب قاضی کا فعل خاوند کی طرف منسوب ہوگا۔

ابن همام، شرح فتح القدیر، 4: 300، بیروت: دار الفکر

شیخ نظام الدین اور اُن کی جماعت کی متفقہ تحقیق فتاوی ہندیہ میں بھی درج ہے کہ:

إنْ اخْتَارَتْ الْفُرْقَةَ أَمَرَ الْقَاضِي أَنْ یُطَلِّقَهَا طَلْقَةً بَائِنَةً فَإِنْ أَبَی فَرَّقَ بَیْنَهُمَا... وَالْفُرْقَةُ تَطْلِیقَةٌ بَائِنَةٌ... وَلَهَا الْمَهْرُ کَامِلًا وَعَلَیْهَا الْعِدَّةُ بِالْإِجْمَاعِ إنْ کَانَ الزَّوْجُ قَدْ خَلَا بِهَا وَإِنْ لَمْ یَخْلُ بِهَا فَلَا عِدَّةَ عَلَیْهَا وَلَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ إنْ کَانَ مُسَمًّی وَالْمُتْعَةُ إنْ لَمْ یَکُنْ مُسَمًّی.

اگر بیوی جدائی چاہتی ہے تو قاضی (عدالت) اس کے خاوند کو طلاق بائن دینے کا حکم دے۔ اگر انکار کرے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے یہ فرقت طلاق بائن ہوگی۔ اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور بالاتفاق اس پر عدت لازم ہے اگر خاوند نے اس سے خلوت صحیحہ کی ہے اور اگر خلوت صحیحہ و قربت نہیں کی تو عورت پر عدت نہیں اور اگر مہر مقرر تھا تو اس کا نصف دینا ہوگا اور مہر مقرر نہ تھا تو حسب توفیق کپڑوں کا جوڑا اور تحائف وغیرہ۔

الشیخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الہندیة، 1: 524، بیروت: دار الفکر

مذکورہ بالا تصریحات کی رو سے واضح ہوتا ہے کہ اگر بیوی کی درخواست پر عدالت نے تنسیخِ نکاح کیا تھا اور عدت گزر چکی ہے تو نیا نکاح درست ہے اور نکاح خوان کے نکاح پڑھانے میں کوئی قباحت نہیں، اور نکاح خوان کی اقتداء میں نماز بھی جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری