زنا سے پیدا ہونے والے بچے شوہر کی طرف منسوب ہوں گے یا زانی کی طرف؟

سوال نمبر:4578
السلام علیکم! زید اور عالیہ کی شادی کو 11 سال ہو گئے ہیں مگر عالیہ کے بقول زید میں مردانگی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ مطمئن نہیں تھی۔ اسکا نقصان یہ ہوا کہ عالیہ نے زید کے کزن سے نہ صرف ناجائز تعلقات بنائے بلکہ زنا سے 3 بچے بھی پیدا کر لیئے۔ اب زید اپنی عزت بچانے کیلیئے کہہ رہا ہے بچے میرے ہیں جبکہ عالیہ کے بقول وہ بچے زید کے کزن کے ہیں۔ مگر عالیہ نے یہ بات اپنے شوہر اور خاندان کو بھی نہیں بتائی۔ بلکہ اپنی بچپن کی دوست کو بتائی ہوئی ہے۔ اور اب تک بچوں کے تمام اخراجات زید سے ہی کروا رہی ہے۔ شادی کے بعد سے اختلافات تو چل ہی رہے تھے۔ درمیان میں بہت بڑھے بھی مگر سنبھلتے گئے مگر اب بات طلاق تک جا پہنچی اور زید کے بقول اس نے ہوش و ہواس میں مگر جزبات میں آکر ایک ہی مجلس میں 3 طلاقیں دے دیں۔ اب کیا ہو سکتا ہے؟ مزید کیا عالیہ عدت کے بعد زید کے کزن (جس سے زنا کرتی رہی ہے) سے شادی کرلے تو بچوں کے بارے کیا حکم ہو گا کہ کیا وہ آدمی حقیقی باپ کا نام دے سکتا ہے؟ اور خاندان یا معاشرے میں کیسے رہا جائے گا؟ مزید شرعی حکم کیا لاگو ہوں گے؟ جزاک اللہ

  • سائل: علی اسدمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 26 دسمبر 2017ء

زمرہ: زنا و بدکاری

جواب:

اختلافات اپنی جگہ، مگر گیارہ سال بعد مردانگی نہ ہونے کا اعتراض لگا کر بچوں کا مستقبل داؤ پر لگانا درست نہیں۔ کیا ان بچوں کی یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد معاشرہ ان کو قبول کرے گا؟ کیا وہ خود سر اٹھا کر جی سکیں گے؟ اُن معصوموں کو اس جرم کی سزا کیوں دی جائے جس کا انہوں نے ارتکاب ہی نہیں کیا۔

طلاق کی عدت پوری کرنے کے بعد عالیہ اپنے پسندیدہ کزن سے نکاح کر لے، لیکن بچے زید کے ہیں اور اسی کے پاس رہیں گے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عتبہ بن ابو وقاص نے سعد بن ابو وقاص سے وعدہ لیا کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے اس پر قبضہ کر لینا۔ فتح مکہ کے سال سعد بن ابو وقاص نے اسے پکڑ لیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے اور اس کے متعلق مجھ سے عہد لیا گیا ہے۔ عبداﷲ بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور ان کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ سعد عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! میرا بھتیجا ہے اور اس کے متعلق مجھ سے عہد لیا گیا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اُن کے بستر پر ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبد بن زمعہ! یہ تمہارا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔

  1. بخاري، الصحیح، 6: 2481، رقم: ، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. مسلم، الصحیح، 2: 1080، رقم: 1457، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

ایک اور روایت میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ  أَنَّ رَسُولَ اﷲِ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔

  1. مسلم، الصحیح، 2: 1081، رقم: 1458
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 280، رقم: 7749، مصر: مؤسسة قرطبة

اس لیے بچے زید کی طرف منسوب کیے جائیں گے، وہی ان کا باپ ہے اور ان کی پرورش بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟