Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - طلاق کے الفاظ کنایہ سے کیا مراد ہے؟

طلاق کے الفاظ کنایہ سے کیا مراد ہے؟

موضوع: طلاق   |  طلاق کنایہ

سوال پوچھنے والے کا نام: مجاہد اقبال       مقام: ملتان

سوال نمبر 4518:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ. طلاق کے الفاظ کنایہ میں طلاق کی نیت سے کیا مراد ہے؟ اور گالی گلوچ سے کیا مراد ہے؟ نیز غصہ میں طلاق کے الفاظ کنایہ کہنا جبکہ طلاق کی نیت نہ ہو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

ایسے الفاظ جن میں طلاق یا علیحدگی کا معنیٰ پایا جائے ان کو طلاق کی نیت سے بولنے سے طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: کنایہ کے کونسے الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے؟

الفاظِ کنایہ سے طلاق کے واقع ہونے کے لیے الفاظ بولنے والے کی نیت یا دلالتِ حال میں سے کسی ایک شے کا پایا جانا ضروری ہے۔ شدید غصے میں طلاق واقع نہیں ہوتی‘ خواہ الفاظِ کنایہ سے ہو یا صریح الفاظ میں۔ غصے کی طلاق کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: غصے کی طلاق کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-11-25


Your Comments