Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - نمازِ تراویح کی کل کتنی رکعات ہیں؟

نمازِ تراویح کی کل کتنی رکعات ہیں؟

موضوع: نماز  |  عبادات  |  نمازتراویح

سوال نمبر 448:
نمازِ تراویح کی کل کتنی رکعات ہیں؟

جواب:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ تراویح کی کل آٹھ رکعات ہیں، جب کہ صحیح قول کے مطابق تراویح کی کل بیس (20) رکعات ہیں۔

اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں (نفل) نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلی رات نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہوگئے، پھر تیسری یا چوتھی رات بھی اکٹھے ہوئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا : میں نے دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے تمہارے پاس (نماز پڑھانے کے لئے) آنے سے صرف اس اندیشہ نے روکا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے گی۔ یہ واقعہ رمضان المبارک کا ہے۔

1. بخاری، الصحيح، کتاب التهجد، باب : تحريض النبی صلی الله عليه وآله وسلم علی صلاة الليل والنوافل من غير إيجاب، 1 : 380، رقم : 1077
2. بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التروايح، باب فضل من قام رمضان، 2 : 708، رقم : 1908
3. مسلم، الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح، 1 : 524، رقم : 761
4. أبو داود، السنن، کتاب الصلاة، باب في قيام شهر رمضان، 2 : 49، رقم : 1373
5. نسائي، السنن، کتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب قيام شهر رمضان، 3 : 202، رقم : 1604

امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان نے حضرت عائشہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں قیامِ رمضان (تراویح) کی رغبت دلایا کرتے تھے لیکن حکماً نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ (ترغیب کے لئے) فرماتے کہ جو شخص رمضان المبارک میں ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کرتا ہے تو اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک تک قیام رمضان کی یہی صورت برقرار رہی اور یہی صورت خلافتِ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کے اوائل دور تک جاری رہی یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں جمع کر دیا اور وہ انہیں نمازِ (تراویح) پڑھایا کرتے تھے۔ لہٰذا یہ وہ ابتدائی زمانہ ہے جب لوگ نمازِ تراویح کے لئے (با جماعت) اکٹھے ہوتے تھے۔

1. ابن حبان، الصحيح، 1 : 353، رقم : 141
2. ابن خزيمة، الصحيح، 3 : 338، رقم : 2207

امام ابن حجر عسقلانی نے ’’التلخیص‘‘ میں بیان کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو راتیں 20 رکعت نماز تراویح پڑھائی، جب تیسری رات لوگ پھر جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف (حجرۂ مبارک سے باہر) تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے اندیشہ ہوا کہ (نمازِ تراویح) تم پر فرض کر دی جائے گی لیکن تم اس کی طاقت نہ رکھوگے۔ ()

عسقلاني، تلخيص الحبير، 2 : 21

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضي اﷲ عنہماسے مروی ہے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔ ()

1. طبراني، المعجم الأوسط، 1 : 243، رقم : 798
2. طبراني، المعجم الأوسط، 5 : 324، رقم : 5440
3. طبرانی، المعجم الکبير، 11 : 393، رقم : 12102
4. ابن أبي شيبة، المصنف، 2 : 164، رقم : 7692

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس (20) رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے۔

بيهقی، السنن الکبری، 2 : 496، رقم : 4393

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments