Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا شراب بطور دوا پلانا جائز ہے؟

کیا شراب بطور دوا پلانا جائز ہے؟

موضوع: نشہ آور اشیاء

سوال پوچھنے والے کا نام: اشتیاق احمد       مقام: اٹک

سوال نمبر 4416:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ہمارے علاقے میں لوگوں نے کئی بار آزمایا ہے کہ اگر نمونیہ کے بیمار چھوٹے بچے کواگر اعلیٰ قسم کی شراب کے دو تین قطرے پلائے جائیں تو وہ جلد صحتیاب ہو جاتا ہے؟ کیا دوا کے طور پر شراب پلانا جائز ہے؟

جواب:

اگر کوئی متبادل دوا موجود نہ ہو تو مستند طبیب کے مشورہ سے شراب بطور دوا پلائی جاسکتی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

جن دواؤں میں نشہ آور اشیاء شامل ہوں ان کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 0000-00-00


Your Comments