Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نئے سال کی مبارکباد دینا جائز ہے؟

کیا نئے سال کی مبارکباد دینا جائز ہے؟

موضوع: معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: سرور خاں       مقام: ملان، اٹلی

سوال نمبر 4407:
السلام علیکم علامہ صاحب! برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں: ۱۔ کیا نیا اسلامی سال شروع ہونے پر مسلمانوں کو خیر و برکت کی دعا کے ساتھ مبارک باد دینا یا مبارک بادی کے پیغامات بھیجنا جائز ہے؟ ۲۔ اگر جائز ہے تو اسکا اسلامی طریقہ (دعا وغیرہ) کیا ہے؟ جزاک اللہ خیراََ

جواب:

نئے سال کی مبارکباد دینے والا اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمیں زندگی کا ایک اور سال بھی دکھا دیا ہے جس میں ہمیں توبہ اور نیک عمل کمانے کا مزید موقع میسر آسکتا ہے۔ یہ مبارکباد خوشی اور اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار ہے۔ اس لیے نئے سال کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو چھ حقوق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب اسے خوشی پہنچے تو اسے مبارک باد دے۔

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے الاوسط میں درج کیا‘ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ:

كان أصحاب النبي صلی الله علیه وآله وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، و رضوان من الرحمن، و جواز من الشيطان.

(الطبراني، الأوسط: 6241)

نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

تاریخ اشاعت: 2017-09-25


Your Comments