اگر کسی جگہ قاضی سسٹم موجود نہ ہو تو عورت خلع کا دعویٰ کیسے دائر کرے؟

سوال نمبر:4401
السلام علیکم! ایک عورت اپنے شوہر سے علیحدگی چاہتی ہے جبکہ شوہر طلاق نہیں دے رہا۔ یہاں قاضی سسٹم بھی نہیں‌ ہے کہ عورت خلع کا دعویٰ دائر کر سکے۔ ایسی صورت میں عورت کو کیا کرنا چاہیے؟

  • سائل: یاسر اقبالمقام: بیلجیم
  • تاریخ اشاعت: 22 ستمبر 2017ء

زمرہ: طلاق   |  خلع کے احکام

جواب:

عورت جس ملک میں‌ رہائش پذیر ہے وہاں لازمی طور پر کوئی نہ کوئی عدالتی نظام موجود ہوگا، مذکورہ عورت اسی عدالت میں تنسیخِ نکاح یا خلع کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔ تنسیخِ نکاح یا خلع کے لیے قاضی سسٹم کا ہونا ضروری نہیں‌ ہے۔ اگر کسی جگہ واقعتاً کوئی عدالتی نظام موجود نہیں ہے تو مذکورہ عورت خاندان یا علاقے کے بااثر افراد کے ذریعے بھی معاملات طے کر سکتی ہے۔ نکاح و طلاق کے لیے قاضی سسٹم کی موجودگی شرط نہیں‌ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟