Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر کسی جگہ قاضی سسٹم موجود نہ ہو تو عورت خلع کا دعویٰ کیسے دائر کرے؟

اگر کسی جگہ قاضی سسٹم موجود نہ ہو تو عورت خلع کا دعویٰ کیسے دائر کرے؟

موضوع: طلاق   |  خلع کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: یاسر اقبال       مقام: بیلجیم

سوال نمبر 4401:
السلام علیکم! ایک عورت اپنے شوہر سے علیحدگی چاہتی ہے جبکہ شوہر طلاق نہیں دے رہا۔ یہاں قاضی سسٹم بھی نہیں‌ ہے کہ عورت خلع کا دعویٰ دائر کر سکے۔ ایسی صورت میں عورت کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب:

عورت جس ملک میں‌ رہائش پذیر ہے وہاں لازمی طور پر کوئی نہ کوئی عدالتی نظام موجود ہوگا، مذکورہ عورت اسی عدالت میں تنسیخِ نکاح یا خلع کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔ تنسیخِ نکاح یا خلع کے لیے قاضی سسٹم کا ہونا ضروری نہیں‌ ہے۔ اگر کسی جگہ واقعتاً کوئی عدالتی نظام موجود نہیں ہے تو مذکورہ عورت خاندان یا علاقے کے بااثر افراد کے ذریعے بھی معاملات طے کر سکتی ہے۔ نکاح و طلاق کے لیے قاضی سسٹم کی موجودگی شرط نہیں‌ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-09-22


Your Comments