Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا قرضہ حسنہ کے ادارے میں کام کرنا جائز ہے؟

کیا قرضہ حسنہ کے ادارے میں کام کرنا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  بینک کی ملازمت

سوال پوچھنے والے کا نام: حمزہ علی       مقام: لاہور

سوال نمبر 4398:
السلام علیکم مفتی صاحب! میں قرضہ حسنہ دینے والے ایک ادارے ’اخوت‘ میں ڈیٹا انٹر آپریٹر کام کرتا ہوں۔ یہ ادارہ لوگوں کو 20 سے 50 ہزار تک بلِاسود قرضہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی واپسی ماہانہ اقساط کی صورت میں قرض کی رقم کے مطابق ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر قرض کی رقم 20 ہزار ہے تو ماہانہ قسط 1250 ہوگی، اس میں‌ کوئی اضافی چارجز وصول نہیں کیے جاتے۔ قرض لینے کی درخواست کی فیس 200 روپے ہے۔ قرض کی رقم کے مطابق 1 فیصد انشورنس ہوتی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر قرض خواہ قرض کی مکمل واپسی سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کا قرض معاف کر دیا جاتا ہے اور لوحقین کو 5000 روپے کفن و دفن کے لیے دیئے جاتے ہیں۔ کیا اس ادارے میں‌ کام کرنا درست ہے؟

جواب:

قرضہ حسنہ کا جو طریقہ آپ نے بیان کیا ہے یہ عامۃ الناس کے لیے نہایت مفید ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔ قرضہ حسنہ کے ایسے اداروں میں کام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2017-09-25


Your Comments