Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - عید کے دن مصافحہ اور معانقہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

عید کے دن مصافحہ اور معانقہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

موضوع: معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: حامد رضا       مقام: برلن

سوال نمبر 4391:
عید کی نماز کے بعد مصافحہ کرنے یا گلے ملنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:

ملاقات کا اسلامی طریقہ دنیا بھر کے مذہبی اور غیرمذہبی طریقوں سے ممتاز اور خوبیوں سے لبریز ہے۔ اس میں ایک طرف الفت و محبت، شفقت و عظمت اور انسیت و ہمدردی کا اظہار ہے تو دوسری طرف یہ گناہوں کی بخشش کا سبب بھی ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں مصافحے کا رواج تھا؟

قَالَ: نَعَمْ.

انہوں نے فرمایا: ہاں۔

بخاري، الصحيح، 5: 2311، رقم: 5908، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة

ملاقات کے وقت دو مسلمان مصافحہ کریں تو ان دونوں کی بخشش کا سبب ہے:

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی الله عنه قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی اللہه عليه وآله وسلم إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اﷲَ عَزَّوَجَل وَاسْتَغْفَرَاہُ غُفِرَ لَہُمَا.

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملیں تو مصافحہ کریں اور اللہ کی حمد و ثنا کریں اوراُس سے معافی چاہیں تو دونوں کو بخش دیا جاتا ہے۔

أبي داود، السنن، 4: 354، رقم: 5211، دار الفکر

اور دوسری روایت میں ہے:

عَنِ الْبَرَاءِ رضی الله عنه قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَہُمَا قَبْلَ أَنْ یَتَفَرَّقَا۔.

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں تو اُن کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 4: 289، رقم: 18570، مصر: مؤسسة قرطبة
  2. أبي داود، السنن، 4: 354، رقم: 5212
  3. ترمذي، السنن، 4: 74، رقم: 2727، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

ملاقات کا اندازِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درج ذیل ہے:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ فَکَلَّمَهُ لَمْ یَصْرِفْ وَجْهَهُ عَنْهُ حَتَّی یَکُونَ هُوَ الَّذِي يَنْصَرِفُ وَإِذَا صَافَحَهُ لَمْ یَنْزِعْ یَدَہُ مِنْ یَدِہِ حَتَّی يَکُونَ هُوَ الَّذِي يَنْزِعُہَا وَلَمْ يُرَ مُتَقَدِّمًا بِرُکْبَتَیْهِ جَلِيسًا لَهُ قَطُّ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب کسی کی ملاقات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک منہ نہ پھیرتے جب تک وہ خود نہ پھیرتا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ خود نہ چھوڑتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی ملاقاتی کے سامنے پاؤں نہیں پھیلائے۔

ابن ماجه، السنن، 2: 1224، رقم: 3716، بيروت: دار الفکر

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل یمن کو مصافحہ میں پہل کرنے والے قرار دیا:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ لَمَّا جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَدْ جَائَکُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ۔.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اہلِ یمن حاضر بارگاہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں جو مصافحہ شروع کرنے میں سب سے پہلے ہیں۔

أبي داود، السنن، 4: 354، رقم: 5213

جس طرح مسلمانوں کے درمیان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرنے کا طریقہ رائج تھا اسی طرح ملاقات کرتے ہوئے معانقہ کرنے کا ثبوت بھی احادیث مبارکہ سے ملتا ہے:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِذَا تَلاَقَوْا تَصَافَحُوا، وَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ تَعَانَقُوا.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے تو مصافحہ کیا کرتے تھے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کیا کرتے تھے۔

طبراني، المعجم الأوسط، 1: 37، رقم: 97، القاهرۃ: دار الحرمین

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حجرہ میں تشریف فرما تھے حضرت زید رضی اللہ عنہ  نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برہنہ (قمیض کے بغیر) ہی کپڑا کھینچتے ہوئے ان کی طرف بڑھے۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ تو اس سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد کبھی برہنہ دیکھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں:

فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ.

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا۔

ترمذي، السنن، 5: 76، رقم: 2732

حضرت ایوب بن بشیر عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزہ کے ایک آدمی نے ملکِ شام میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثوں میں سے ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا کہ اگر کوئی راز نہ ہوا تو میں تمہیں بتادوں گا۔ میں عرض گزار ہوا کہ وہ راز نہیں ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات کے وقت آپ حضرات سے مصافحہ کیا کرتے تے؟ فرمایا:

مَا لَقِیتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ یَوْمٍ وَلَمْ أَکُنْ فِي أَہْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ لِي فَأَتَیْتُهُ وَهُوَ عَلَی سَرِيرِہِ فَالْتَزَمَنِي فَکَانَتْ تِلْکَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ۔.

میں جب بھی ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے مصافحہ فرمایا اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا لیکن میں گھر میں نہیں تھا۔ جب میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا ہے۔ تو میں حاضر بارگاہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تخت پر جلوہ افروز تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے معانقہ فرمایا (یعنی گلے ملے)، یہ بڑی عمدہ بات ہے بڑی عمدہ ہے۔

أبي داود، السنن، 4: 354، رقم: 5213

اور ایک روایت میں ہے:

عَنِ الشَّعْبِیِّ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم تَلَقَّی جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهُ وَقَبَّلَ مَا بَیْنَ عَیْنَیْهِ۔.

حضرت شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جعفر بن ابو طالب سے ملے تو ان سے معانقہ فرمایا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔

أبي داود، السنن، 4: 356، رقم: 5220

مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ ملاقات کرتے وقت مصافحہ اور معانقہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل مبارک سے ثابت ہے۔ کسی موقع پر بھی مصافحہ اور معانقہ کی ممانعت نہیں ہے۔ بروزِ عید گلے ملنے اور ہاتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں، یہ ایک مسنون عمل ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-09-25


Your Comments