بینکوں‌ کی شرح منافع میں‌ کمی بیشی کے ساتھ ملنے والے نفع کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:4390
السلام علیکم! بینکوں اور نیشنل سیونگ کے سودی اکاؤنٹس میں رقم رکھوانے پر انویسٹرز کو مقررہ مدت کے بعد مخصوص شرح میں پرافٹ دیا جاتا ہے۔ کل منافع کے حساب سے اس شرح میں کمی یا زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ شرح منافع میں‌ کمی یا بیشی کے ساتھ ملنے والا پرافٹ بھی سود ہے؟

  • سائل: ذوالفقارمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 21 ستمبر 2017ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل  |  مضاربت   |  سود

جواب:

اگر کوئی بینک یا ادارہ اپنے کھاتہ دار (investor) کو مقررہ مدت میں متعین (fixed) اضافہ دے تو یہ صریحاً سود ہے جو کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔ اس کو نام کوئی بھی دے لیا جائے، نام بدلنے سے حرام‘ حلال نہیں بن جاتا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کھاتہ دار (investor) بینک یا کسی ادارے میں اپنی رقوم نفع و نقصان کی بنیاد پر جمع کروائیں اور ان کو طے شدہ نسبت (percentage) کے ساتھ زائد ملے تو یہ جائز ہے۔ اس صورت میں بینک کو آمدنی زیادہ ہونے پر کھاتے داروں کو بھی زیادہ حصہ ملے گا اور نقصان ہونے پر کھاتے داروں کا سرمایہ اور بینک کی محنت ضائع ہوجائے گی۔ نفع و نقصان میں ادارہ اور کھاتے دار دونوں برابر کے شریک ہوتے ہیں‌۔ اس طرح کسی ایک فریق کو نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔ موضوع کی وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا حکومتی اداروں‌ میں سرمایہ کاری پر ملنے والا منافع کفالت ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟