Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مقروض پر قربانی واجب ہے؟

کیا مقروض پر قربانی واجب ہے؟

موضوع: قربانی   |  احکام قربانی

سوال پوچھنے والے کا نام: موحد علی       مقام: لاہور

سوال نمبر 4338:
محترم مفتی صاحب! مختلف مالی مشکلات کی وجہ سے ہم عرصہ دراز سے مقروض ہیں، مگر ہر سال قربانی کرتے ہیں۔ امسال میرا بیٹا کہتا ہے کہ ہم پر قرض‌ ہے اس لیے قربانی نہیں‌ دیں‌ گے۔ راہنمائی فرما دیں‌ کہ کیا مقروض پر قربانی واجب ہے؟

جواب:

اپنے پاس موجود سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت کی کل مالیت جمع کریں، اگر کسی کو قرض دیا ہوا ہے اور اُس کی واپسی کا امکان ہے تو اسے بھی اس میں شامل کرلیں۔ تمام جمع شدہ اموال میں سے اتنی رقم منہاء (منفی) کر دیں جتنا آپ پر قرض ہے۔ اِس کے بعد جو کچھ بچ جائے اگر وہ نصابِ شرعی (ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت کے برابر) ہو تو آپ پر قربانی واجب ہے۔ قربانی کے وجوب کے لیے محض مالکِ نصاب ہونا کافی ہے، زکوٰۃ کی طرح نصاب پر پورا سال گزرنا شرط نہیں ہے۔

قربانی کے وجوب کی شرائط جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے:

قربانی کا شرعی حکم کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-08-17


Your Comments