اگر فرض نماز میں‌ سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کرنا بھول گیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:4307
سوال اگر فرض نماز کی دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلا جائے تو کیا سجدہ سہو سے نماز ہو جائیگی؟

  • سائل: شیخ محمد نورالزمانمقام: بنگلورو
  • تاریخ اشاعت: 29 جولائی 2017ء

زمرہ: نماز  |  نماز فجر

جواب:

فقہائے احناف کے نزدیک فرائض کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد قرآنِ مجید کی کوئی سورت پڑھنا واجب ہے۔ چنانچہ عبدالرحمان الجزیری لکھتے ہیں:

ضم سورة إلى الفاتحة في جميع ركعات النفل والوتر والأوليين من الفرض ويكفي في أداء الواجب أقصر سورة أو ما يماثلها كثلاث آيات قصار أو آية طويلة والآيات القصار الثلاث.

نفل اور وتر کی ہر (رکعت میں) اور فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورۃ کا پڑھنا (واجب ہے)۔ چھوٹی سے چھوٹی سورہ یا اس کے برابر قرآنِ مجید کی آیتیں جیسے تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھ لینے سے واجب ادا ہو جاتا ہے۔

عبدالرحمان الجزيري، الفقه علیٰ مذاهب الاربعه، 1: 259، بيروت

اور اگر کوئی شخص سورہ فاتحہ کے بعد والی قراءت پہلی دو رکعتوں میں عمداً چھوڑ دے تو گناہگار ہوگا اور اگر بھول کر چھوڑ دے تو سجدہ سہو کرے گا۔ اس لیے اگر فرائض میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت نہیں ملائی تو سجدہ سہو کرنا ضروری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟