Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اذان کے الفاظ بگاڑنے پر انسان دائر ایمان خارج ہو جاتا ہے؟

کیا اذان کے الفاظ بگاڑنے پر انسان دائر ایمان خارج ہو جاتا ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: عبداللہ       مقام: اوکاڑہ

سوال نمبر 4291:
السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ! مسجد سے آواز آئی اللہ اکبر جسے سنتے ہی زید کے منہ سے نکلا اللہ چک بھر (ارادی یا غیر ارادی) زید کے ایمان اور نکاح کے بارے کیا حکم ہوگا؟ جزاک اللہ

جواب:

اگر یہ جملہ غیرارادی طور پر زید کی منہ سے نکلا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ‌ کی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ ایسا کوئی لفظ نہیں بولنا چاہیے۔

اس کے برعکس اگر زید نے بقائم ہوش و حواس، جان بوجھ کر مذاق اڑانے کے لیے یہ جملہ بولا ہے تو اسے تجدید ایمان کرنا چاہیے اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو نیا نکاح بھی کرے اور اللہ تعالیٰ سے اس جرم پر معافی مانگے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-08-24


Your Comments