Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - تجدیدِ نکاح‌ کا کیا طریقہ ہے؟

تجدیدِ نکاح‌ کا کیا طریقہ ہے؟

موضوع: شرائط نکاح   |  نکاح   |  شرائط نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد وقاص شاہ       مقام: لاہور

سوال نمبر 4286:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ تجدید نکاح کے لیے اسی طرح وکیل اور گواہوں کی موجودگی ضروری ہے۔ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

جواب:

تجدید نکاح سے مراد ہے ’نئے حق مہر کے ساتھ نیا نکاح‘۔ نکاح ایک مرد و عورت کا دوگواہوں کی موجودگی میں، حق مہر کے عوض، رضامندی سے ایجاب و قبول کرنے کا نام ہے۔ خطبۂ نکاح‘ نکاح کی شرط نہیں بلکہ مستحب ہے۔ تجدیدِ نکاح کے لیے مرد و عورت دو مسلمان مردوں یا ایک مسلمان مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں حق مہر کے بدلے ایجاب و قبول کریں گے۔ جس کے بعد تعوّذ و تسمیّہ پڑھ کر جتنا ہو سکے کلام اللہ کی تلاوت کر لیں، یا خطبۂ نکاح یاد ہے تو پڑھ لیں‘ نکاح‌ ہو جائے گا۔ بہرحال حقِ مہر، گواہ اور ایجاب و قبول نکاح کی شرائط ہیں، ان کے بغیر نکاح‌ منعقد نہیں‌ ہوگا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-07-15


Your Comments