Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - شرط پائے جانے پر مشروط طلاق کا کیا حکم ہے؟

شرط پائے جانے پر مشروط طلاق کا کیا حکم ہے؟

موضوع: طلاق   |  تعلیق طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: ی۔ ا       مقام: فیصل آباد

سوال نمبر 4283:
اسلام وعلیکم! شوہر نےبیوی کو کسی بات سے روکتے ھوئے کہا ’سن لو! اگر تم نے دوبارہ ایسے کیا تو تم میری طرف سے فارغ ہو‘ اور بیوی کچھ عرصہ بعد وہ کام کر دے تو کیا طلاق ہو جائے گی؟

جواب:

اگر شوہر نے طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا تو شرط پوری ہونے پر طلاق واقع ہو جائے گی۔ فقہائے اسلام کے ہاں متفقہ فتویٰ ہے کہ:

وَإِذَا أَضَافَهُ إلَى شَرْطٍ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ.

جب (خاوند نے طلاق کو شرط سے) مشروط کیا تو جب شرط پائی گئی، طلاق ہو جائے گی۔

  1. مرغيناني، الهداية، 1: 251، المکتبة الاِسلامية
  2. الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1: 422، دار الفکر

مسئلہ مسؤلہ میں‌ شوہر سے پوچھا جائے کہ جب اس نے بیوی سے کہا ’سن لو! اگر تم نے دوبارہ ایسے کیا تو تم میری طرف سے فارغ ہو‘ تو ’فارغ ہونے‘ سے شوہر کی مراد کیا تھی؟ اگر یہ جملہ کہتے ہوئے شوہر کی نیت طلاق کی تھی تو بیوی نے جونہی وہ کام کیا‘ طلاق بائن واقع ہوگئی اور ان دونوں‌ کا نکاح ختم ہوگیا۔ اگر وہ دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-07-06


Your Comments