Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر مقروض اپنی خوشی سے اصل سے زائد دے تو اسکا کیا حکم ہے؟

اگر مقروض اپنی خوشی سے اصل سے زائد دے تو اسکا کیا حکم ہے؟

موضوع: قرض   |  قرض کے مسائل   |  مضاربت

سوال پوچھنے والے کا نام: عثمان مشتاق اعوان       مقام: لاہور

سوال نمبر 4255:
میں نے اپنے بھائی کو کاروبار کے لیے ایک لاکھ (100000) روپے دیے۔ وہ کہتا ہے کہ میں تجھے دو ہزار (2000) ہر ماہ خرچے کے لیے اپنی خوشی سے دوں گا تاکہ تیرا بھی کام چلتا رہے۔ وہ مجھے 6 7 ماہ سے 2000 دے رہا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سود تو نہیں؟

جواب:
ہماری دانست میں اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ قرض کی اس رقم پر ہونے والے منافع میں مخصوص شرح سے اپنا حصہ طے کر لیں۔ اگر منافع زیادہ ہو تو اس شرح سے آپ کو حصہ بھی زیادہ مل جائے گا اور اگر منافع کم ہوگا تو آپ کا حصہ بھی اسی شرح سے کم ہو جائے گا۔ مجوزہ طریقہ‘ موجودہ طریقے سے کافی بہتر ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-07-03


Your Comments