تبدیلئ جنس کے بعد احکام کس صنف کے لاگو ہوں گے؟

سوال نمبر:4237
اگر کوئی لڑکی جنس تبدیل کروا کر لڑکا بن جائے تو اس پر احکام کس صنف کے لاگو ہوں‌ گے؟ وہ نماز مرد کی طرح پڑھے یا عورت کی طرح؟

  • سائل: صارم خانمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 08 جون 2017ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

اسلام‘ دینِ فطرت ہے اور فطرتِ الٰہی سے متصادم ہر جذبہ معاشرت میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ تبدیلیِ جنس یعنی مرد سے عورت اور عورت سے مرد بننے کا عمل براہِ راست فطرتِ الٰہی سے متصادِم اور بلا واسطہ تغیر لخلق اللہ کا مصداق ہے، نیز پورے معاشرے کے لیے اور خصوصاً اس عمل کے مرتکب کے جسم و روح کے لیے ایک بہت بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔ اس لیے کسی بھی کامل مرد و عورت کا جنس تبدیل کرنا بلاشبہ حرام ہے۔ تاہم کوئی ایسا شخص جس کے جنسی اعضاء پوری طرح واضح نہ ہوں‘ وہ طبی ماہرین کے مشورے سے آپریشن کروا کر جنسی اعضاء کو واضح کروا سکتا ہے۔ آپریشن کے بعد جس جنس کا ظہور ہوگا اسی کے احکام لاگو ہوں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟