کیا عرصہ دراز تک علیحدہ رہنے سے بھی نکاح ختم ہو جاتا ہے؟

سوال نمبر:4234
السلام علیکم! محترم مفتی صاحب میری شادی 2005 میں‌ ہوئی، مگر ہم میاں‌ بیوی میں زیادہ دیر بن نہ سکی۔ 2013 میں میری بیوی قریب ہی اپنے بھائی کے گھر چلی گئی۔ اس دوران نہ تو میں نے نان و نفقہ ادا کیا اور نہ ہی ہمارا جسمانی تعلق قائم ہوا۔ اب میں بیوی کو واپس لانا چاہتا ہوں‌ تو وہ کہتی ہے کہ اتنے سال سے تعلق قائم نہیں ہوا تو ہمارا نکاح ختم ہوچکا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟

  • سائل: فیصل حسنمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 31 مئی 2017ء

زمرہ: طلاق   |  خلع کا حکم

جواب:

شرعِ متین میں میاں بیوی کی علیحدگی اور نکاح ختم ہونے کی تین صورتیں بتائی ہیں: (1) طلاق (2) خلع (3) تنسیخِ نکاح۔ اپنے سوال میں آپ نے بتایا کہ آپ لوگ عرصہ دراز سے الگ رہ رہے ہیں، لیکن اگر آپ نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی، نہ بیوی نے بذریعہ عدالت خلع لیا اور نہ ہی عدالت یا قاضی نے آپ کا نکاح ختم کیا تو آپ کا نکاح بدستور قائم اور آپ کا رشتہ زوجیت تاحال باقی ہے۔ آپ بطور میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟