Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ایک وقت میں‌ دی گئی تین طلاق واقع ہوتی ہیں؟

کیا ایک وقت میں‌ دی گئی تین طلاق واقع ہوتی ہیں؟

موضوع: طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد فیضان       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 4225:
شوہر نے جھگڑے کے دوران بیوی کو تین طلاق دیں، اس نے ایک ہی سانس میں کہا تجھے میری طرف سے تین طلاق، کیا یہ طلاق واقع ہو گئی؟

جواب:

آپ نے سوال میں نامکمل صورتحال بیان کی، جھگڑے کی نوعیت اور شوہر کی کیفیت کے بارے میں واضح نہیں کیا اس لیے ہم حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم اگر شوہر نے جھگڑے کے دوران شدید غصے کی حالت میں طلاق دی ہے، بعد میں اسے احساس ہوا کہ جو کچھ وہ کہہ بیٹھا ہے‘ نہیں کہنا چاہتا تھا تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔ وہ بطور میاں بیوی کے ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: کیا شدید غصے میں دی گئی طلاق واقع ہوتی ہے؟

اس کے برعکس اگر غصے کی شدت ایسی نہیں تھی، شوہر کے ہوش و حواس قائم تھے، جھگڑے کے بعد بھی اس نے طلاق کے فیصلے کو درست ہی کہا تو طلاق واقع ہو گئی ہے۔ اگر اس نے تین دی ہیں تو تین ہی واقع ہوئی ہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: ایک مجلس میں‌ دی گئی تین طلاق کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-05-29


Your Comments