Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مسجد کے لیے وقف اشیاء دیگر استعمالات میں لائی جاسکتی ہیں؟

کیا مسجد کے لیے وقف اشیاء دیگر استعمالات میں لائی جاسکتی ہیں؟

موضوع: مسجد   |  وقف   |  وقف کے مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: جان محمد       مقام: پاکستان

سوال نمبر 4224:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک ادارے نے اپنی مملوکہ زمین میں مسجد بنائی جس تک ادارے کے ملازمین اور پبلک دونوں کو رسائی ہے۔ اس مسجد میں نماز جمعہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مذکورہ ادارے نے شامیانے لے کر مسجد کو الاٹ کیے۔ کیا اس ادارے کی دیگر تقریبات جیسے کرکٹ میچ وغیرہ کے تماشبین کے لیے عارضی طور پر ان شامیانوں کو کھیل کے میدان میں لگایا جاسکتا ہے؟

جواب:

مسجد کے لیے وقف اشیا اصلاً مسجد کی ملکیت ہوتی ہیں۔ یہ شامیانے بھی مسجد کے لیے وقف ہونے کے بعد مسجد کی ملکیت میں‌ ہیں۔ مسجد انتظامیہ کے مشورے سے یہ شامیانے دیگر تقریبات میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ فیصلہ مسجد انتظامیہ نے کرنا ہے کہ شامیانوں‌ کے استعمال کا کرایہ لیکر مسجد فنڈ میں‌ جمع کروایا جائے یا بغیر کرایہ کے استعمال کی اجازت دے دی جائے۔ بہرحال مذکورہ شامیانے مسجد کی انتظامی کمیٹی کے اجازت سے دیگر استعمالات میں‌ لائے جاسکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-05-27


Your Comments