کیا مسجد کے لیے وقف اشیاء دیگر استعمالات میں لائی جاسکتی ہیں؟

سوال نمبر:4224
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک ادارے نے اپنی مملوکہ زمین میں مسجد بنائی جس تک ادارے کے ملازمین اور پبلک دونوں کو رسائی ہے۔ اس مسجد میں نماز جمعہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مذکورہ ادارے نے شامیانے لے کر مسجد کو الاٹ کیے۔ کیا اس ادارے کی دیگر تقریبات جیسے کرکٹ میچ وغیرہ کے تماشبین کے لیے عارضی طور پر ان شامیانوں کو کھیل کے میدان میں لگایا جاسکتا ہے؟

  • سائل: جان محمدمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 27 مئی 2017ء

زمرہ: وقف کے احکام و مسائل

جواب:

مسجد کے لیے وقف اشیا اصلاً مسجد کی ملکیت ہوتی ہیں۔ یہ شامیانے بھی مسجد کے لیے وقف ہونے کے بعد مسجد کی ملکیت میں‌ ہیں۔ مسجد انتظامیہ کے مشورے سے یہ شامیانے دیگر تقریبات میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ فیصلہ مسجد انتظامیہ نے کرنا ہے کہ شامیانوں‌ کے استعمال کا کرایہ لیکر مسجد فنڈ میں‌ جمع کروایا جائے یا بغیر کرایہ کے استعمال کی اجازت دے دی جائے۔ بہرحال مذکورہ شامیانے مسجد کی انتظامی کمیٹی کے اجازت سے دیگر استعمالات میں‌ لائے جاسکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟