Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا زکوٰۃ کی رقم سے راستے میں ٹھنڈے پانی کا کولر لگوا سکتے ہیں؟

کیا زکوٰۃ کی رقم سے راستے میں ٹھنڈے پانی کا کولر لگوا سکتے ہیں؟

موضوع: زکوۃ  |  مصارفِ زکوٰۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: امِ حذیفہ       مقام: متحدہ عرب امارات

سوال نمبر 4223:
السلام علیکم مفتی صاحب! ہم لوگ زکوٰۃ ادا کر رہے ہیں مگر اس کی ادائیگی کا درست طریقہ معلوم نہیں‌ ہے۔ کیا راستے میں ٹھنڈے پانی کا کولر لگانے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے؟ شرعی طور پر فقیر کون ہوتا ہے؟

جواب:

آپ کے دو سوالات ہیں، دونوں کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اﷲِ وَابْنِ السَّبِيْلِ طفَرِيْضَةً مِّنَ اﷲِط وَاﷲُ عَلِيْمٌ حَکِيْمٌo

بے شک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کیے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔

التوبة، 9: 60

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں آٹھ مصارف زکوٰۃ بیان کئے گئے ہیں، جن میں سے ایک ’فی سبیل اﷲ‘ کا بھی ہے۔ اس مصرف کے بارے میں فقہائے کرام کی رائے ہے کہ:

و في سبيل اﷲ عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه کل من سعی في طاعة اﷲ وسبيل الخيرات إذا کان محتاجا.

فی سبیل اﷲ سے مراد ہے تمام نیکی کے کام ہیں۔ اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو اﷲ کی اطاعت اور نیک کاموں میں تگ ودو کرے، جبکہ (اس کے لیے وہ زکوٰۃ کی رقم کا) حاجت مند ہو۔

  1. علاء الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 2: 45، بيروت: دار الکتاب العربي
  2. ابن نجيم، البحر الرائق، 2: 260، بيروت: دار المعرفة
  3. ابن عابدين شامي، رد المحتار، 2: 323، بيروت: دار الفکر

اس لیے ہماری رائے میں‌ مفاد عامہ کی نیت سے ٹھنڈے پانی کا کولر لگانا بھی فی سبیل اللہ کے مصرف میں شامل ہے۔ اس لیے آپ زکوٰۃ کی رقم سے کولر لگوا سکتے ہیں۔

  1. حسن الوفائی شرنبلالی فرماتے ہیں:

والفقير هو الذی يملک اقل من النصاب او يملکه و هو مستغرق فی حاجته.

فقیر وہ شخص ہے جو نصاب سے بہت کم مال رکھتا ہو اور اپنی ضروریات پوری کرنے میں غرقاب ہو۔

شرنبلالی، نورالايضاح، 1: 133، دمشق، دارالحکمة

گویا شرعاً فقیر اس شخص کو کہتے ہیں جسے غربت و افلاس کی وجہ سے ضروریاتِ زندگی بھی پوری طرح میسر نہ ہوں، اور جو بڑی مشکل سے گزر بسر کر رہا ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-05-27


Your Comments