Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا انشورنس کمپنی میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرنا جائز ہے؟

کیا انشورنس کمپنی میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرنا جائز ہے؟

موضوع: بیمہ و انشورنس

سوال پوچھنے والے کا نام: فرقان مشتاق اعوان       مقام: لاہور

سوال نمبر 4219:
السلام علیکم مفتی صاحب! میں ایک انشورنس کمپنی میں بطور اکاؤنٹنٹ کے کام کر رہا ہوں۔ میرا انشورنس پالیسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ فی الحال مجھے کسی دوسری جگہ کام نہیں مل رہا، تو کیا یہاں کام کرنا جائز ہے؟

جواب:

انشورنس کمپنیوں، بینکوں اور اداروں کے وہ شعبے جن میں سودی لین دین نہیں ہوتا ان میں ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم مکمل طور پر سودی لین دین کرنے والے یا سودی شعبہ جات رکھنے والے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں میں سود لکھنے، گواہی دینے یا کام کرنے والے ملازمین کوشش کریں کہ اپنی ذمہ داریاں اُن شعبہ جات میں لگوا لیں جو کسی حد تک غیرسودی ہیں یا ہونے کا تاثر دیتے ہیں، یا پھر متبادل ملازمت تلاش کرلیں۔ لیکن جب تک کوئی دوسری ملازمت یا غیرسودی شعبہ نہیں ملتا تب تک موجودہ ملازمت کو اضطراری یا مجبوری کی صورت میں جاری رکھیں۔ نئی ملازمت کی تلاش میں جتنا عرصہ لگے، سودی لین دین سے نفرت اور اس کے خاتمے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے۔ جب کوشش اخلاص کے ساتھ ہوگی تو اللہ پاک مدد بھی فرمائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-05-27


Your Comments